تجربہ کی زبان سے
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے سوالات اور جوابات کے بعد مذکورہ نوجوان نے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب پر ہوگی کی پوری فضا یکسر بدل گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ہم سب مختلف نہیں بلکہ ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اور ہمارے یہاں دوری اور دوئی نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ سوال یہ تھا کہ ہمارے کرشن جی مہاراج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کو ایک اصول بتاتا ہوں۔ قرآن مجید اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ‘‘کسی مسلمان کو نہ حق ہے اور نہ اجازت ہے کہ وہ کسی مذہب کے پیشواؤں اور قائدوں کو برا بھلا کہیں ۔‘‘ بلکہ حکم ہے کہ ہم ہر عقیدے اور دھرم کے پیشواؤں کا اور بزرگوں کا احترام کریں۔ لہذا اس قانون کی رو سے ہم اس بات کے پابند ہیں کہ شری کرشن جی مہاراج اور دیگر مذاہب کے تمام پیشواؤں کا احترام کریں اور ان کی تعظیم کریں۔‘‘ یہ سننا تھا کہ نوجوان نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اگر دنیا کے تمام مذہبی لوگ ایسے ہو جائیں جیسے آپ ہیں تو یہ لڑائی جھگڑے، قتل و غارت گری اور آئے دن کے فسادات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔‘‘ میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ اگر یہ بات ہے تو آپ سب میرے ساتھ وعدہ کریں کہ تم اپنی پوری زندگی میں لوگوں کے دلوں سے کدورتیں اور دشمنیاں مٹاؤ گے ۔ اور ان کے دلوں میں باہمی صلح و محبت اور افہام و تفہیم کے بیج بوؤ گے۔ تمام نوجوانوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا۔ اس طویل سفر کے دوران ساری گفتگو کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ہم کو بنگور کینٹ کے اسٹیشن پر اترنا تھا اور ان کو بنگلور سٹی کے اسٹیشن پر۔ لہذا ہماری منزل پہلے آگئی۔ جوں ہی گاڑی اسٹیشن پر رکی تو ان نوجوانوں نے نہ تو کسی قلی کو ہمارے سامان کے قریب آنے دیا، اور نہ ہمیں ہمارے سامان کو ہاتھ لگانے دیا۔ بلکہ ہر نوجوان نے آگے بڑھ کر از خود قلیوں کی طرح ہمارا سامان اپنے ہاتھوں اور کندھوں پر اٹھایا، اور چند لمحوں میں پورا سامان پلیٹ فارم پر رکھ دیا۔ جب گاڑی چلی تو ایک ایک نوجوان نے ہم کو سلام کیا، معانقہ کیا، ہمارے عزیزوں کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ اپنے ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے گاڑی پر سوار ہوئے۔ اور اس سفر کی خوشگوار یادیں ہمارے دلوں میں چھوڑ کر جانب منزل روانہ ہو گئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader