Urdu book · کتابِ زندگی

امکان ختم نہیں ہوتا

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

کی پوری رقم اسے واپس کردی جائے گی۔ اس پیش کش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈیوٹ کے پاس خریداری کی فرمائش اور منی آرڈر آنا شروع ہو گئے۔ پہلے ہی مرحلہ میں اس نے اتنی رقم حاصل کر لی جس سے دو ماہ کا شمارہ بہ آسانی چھاپا جا سکے۔ ڈیوٹ کا منصوبہ کامیاب رہا۔ کسی ایک شخص نے بھی اپنی خریداری ختم نہیں کی۔ کسی نے بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس نے عام خریداروں تک پہنچنے کی کوشش کو تیز تر کر دیا فروری 1922 میں اس کا میگزین ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ برابر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 1987 میں وہ 28 ملین سے زیادہ تعداد میں دنیا کی پندرہ زبانوں میں 139 ایڈیشن شائع کر رہا ہے۔ یہ وہی ماہانہ میگزین ہے جو آج ساری دنیا میں ریڈرز ڈائجسٹ (Reader`s Digest) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اب وہ دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا میگزین بن چکا ہے۔ 1980 میں ڈیوٹ اور اس کی بیوی پچاس ہزار ملین ڈالر کے مالک تھے۔ ڈیوٹ نے اپنے میگزین کے لیے اس طرح خریدار فراہم کیے کہ اس نے اپنے میگزین کو خریداروں کے لیے ”مفت“ بنا دیا۔ ہر آدمی پیسہ ڈوب جانے کے اندیشہ کے بغیر اس کا خریدار بن سکتا تھا۔ تاہم خود اس تدبیر کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے ایک اور تدبیر ضرور تھی۔ اگر یہ دوسری تدبیر موجود نہ ہوتی تو صرف پہلی تدبیر اس کی ناکامی میں اضافہ کے سوا اسے کچھ اور دینے والی ثابت نہ ہوتی۔ یہ دوسری تدبیر وہی تھی جس کو اعلیٰ معیار کہا جاتا ہے۔ یعنی میگزین کو معیار کے اعتبار سے ایسا بنا دینا کہ پڑھنے کے بعد قاری کو وہ واقعی پڑھنے کی چیز نظر آئے۔ وہ اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھے کہ اس کی خریداری کے لیے جو رقم اس نے بھیجی ہے وہ صحیح بھیجی ہے، اور اس کو اپنی خریداری جاری رکھنا چاہیے۔ اپنے میگزین میں یہ دوسری صفت پیدا کرنے کے لیے ڈیوٹ کو غیر معمولی محنت کرنی پڑی۔ اس کا ماہنامہ ایک ڈائجسٹ تھا۔ یعنی مختلف مطبوعہ مضامین کا انتخاب۔ ڈیوٹ یہ منتخب مضامین حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page