Urdu book · کتابِ زندگی

امکان ختم نہیں ہوتا

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کے لیے روزانہ چالیس سے زیادہ میگزین پڑھتا تھا۔ کچھ خرید کر اور کچھ مختلف لائبریریوں میں جاکر۔ اس پر مشقت عمل کے لیے ڈیوٹ کو طعن و طنز بھی سننے پڑتے تھے۔ مثلاً بہت سے لوگ اس کو محض قینچی ایڈیٹر (Scissors-and-paste editor) کہنے لگے۔ مگر ہر مخالف بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنا کام جاری رکھا۔ ڈیوٹ ویلس کے سوانح نگار نے اس کی کامیابی کا راز ان الفاظ میں بیان کیا ہے: What made him supernormal was his intense, sustained curiosity, plus and unequalled capacity for work. (p. 182) جس چیز نے اس کو غیر معمولی بنایا وہ اس کا گہرا اور دائمی تجسس تھا، مزید یہ کہ وہ کام کرنے کی بے پناہ طاقت رکھتا تھا۔ ڈیوٹ ویلس کے ایک دوست نے اس کے بارے میں کہا کہ جتنا وہ بولتا ہے اس سے بہت زیادہ وہ سنتا ہے۔ He listens far more than he talks. یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں مواقع اور امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جب بھی ایک امکان ختم ہو تو آدمی کو فوراً دوسرے امکان کی تلاش میں لگ جانا چاہیے۔ آدمی اگر ایسا کرے تو وہ پائے گا کہ جہاں حالات نے بظاہر اس کی ناکامی کا فیصلہ کر دیا تھا، وہیں اس کے لیے ایک نیا شاندار ترامکان موجود تھا جس کو استعمال کر کے دوبارہ وہ اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page