خدمت کا کرشمہ
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ بغیر طلب انہیں بڑی بڑی رقم دیتے رہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے جو رقم ان کو دی جائے گی وہ ضرور صحیح طور پر استعمال ہوگی۔ 1986ء میں ان کو خدمت خلق (Public Service) کے لیے (Ramon Magsayay Award) دیا گیا ہے۔ عبدالستار ایدھی اس سے پہلے ایک مقامی شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس انعام نے انھیں بین الاقوامی حیثیت دے دی۔ اس طرح وہ انسانی خدمت کی اس ممتاز فہرست میں آ گئے جس میں اب تک صرف مدر ٹریسا کو شہرت حاصل تھی۔ اگر چہ مدر ٹریسا کا کام بہت بڑا ہے۔ ان کو نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔ تا ہم عبدالستار ایدھی غالباً مسلمانوں میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس میدان میں نمایاں خدمت کا ایسا ثبوت دیا ہے کہ عالمی سطح پر ان کا اعتراف کیا گیا۔ اس طرح کا کام پیشہ ورانہ طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے خدا کی خلقت سے گہری شفقت کا تعلق ہونا ضروری ہے۔ اور یہ چیز مدر ٹریسا اور عبدالستار ایدھی میں مشترک ہے۔ مدر ٹریسا کا کہنا ہے کہ میں ہر انسان کے اندر خدا کو دیکھتی ہوں: I see God in every human being. یہی معاملہ عبدالستار ایدھی کا ہے۔ چنانچہ مسٹر اشوک مہادیون کے ایک سوال کے جواب میں عبد الستار ایدھی نے کہا کہ میں ان کے اندر خدا کو دیکھتا ہوں: I see God in them. (p. 119) خدمت کی برکت انسان کی خدمت کا معاویہ انسان کی محبت ہے۔ یہ اصول کسی ایک ملک کے لیے نہیں ہے، بلکہ ساری دنیا کے لیے ہے۔ جو لوگ انسانوں کی خدمت کریں، ان کو اس سے ایک طرف بے پناہ قلبی سکون ملتا ہے۔ اسی کے ساتھ دوسروں کے اندر انہیں عزت اور محبوبیت کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ ان کے دشمن بھی ان کے دوست بن جائیں۔ خطر ناک ڈاکو بھی ان کو دیکھ کر اپنے ہتھیاروں کا استعمال ترک کر دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader