خدمت کا کرشمہ
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں تھا کہ اس کا نام عبد الستار ہے۔ اور نہ اس کا سبب احتجاج اور مطالبہ یا جلسہ اور تقریر کے ہنگامے تھے۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ انسانی خدمت ہے۔ عبد الستار نے اپنے 40 سالہ بے لوث خدمت سے یہ مقام پیدا کیا کہ ڈاکو بھی اس کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔ عبد الستار ایدھی (عمر 55 سال) ایک پاکستانی مہاجر ہیں۔ 1947 میں وہ گجرات کو چھوڑ کر کراچی چلے گئے ۔ ابتدا انہوں نے کپڑے اور دوا کی دکان پر ملازمت کی۔ ان پر کئی ایسے تجربے گزرے جب کہ ایک مریض یا حادثہ کا شکار آدمی کو ہسپتال پہنچانے کے لیے فوری طور پر ایمبولنس کار کی ضرورت تھی۔ مگر وقت پر ایمبولنس نہ پہنچنے کی وجہ سے آدمی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ ان کے دل میں آیا کہ وہ ایمبولنس سروس کا ایک رفاہی ادارہ قائم کریں گے۔ 1950 میں انہوں نے عطیات کی رقم سے ایک سیکنڈ ہینڈ ٹرک خریدا اور اس کو ایک معمولی قسم کے ایمبولنس میں تبدیل کر کے مریضوں اور زخمیوں کی خدمت شروع کی۔ یہ کام بڑھا۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس 245 ایمبولنس کا دستہ ہے۔ وہ کراچی کے اندر اور کراچی کے باہر غریبوں اور معذوروں کی مفت خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کا سماجی خدمت کا ادارہ ہر روز ہزاروں پاکستانیوں کی خدمت کرتا ہے۔ ایمبولنس کے دستہ کے علاوہ ان کے تحت زچہ خانے، بلڈ بینک، ایکسریے کلینک، لیبارٹری، نرسنگ سکول، یتیم خانے، معذور خانے وغیرہ چل رہے ہیں۔ انہوں نے ایتھیوپیا (53 ہزار ڈالر) فلسطین (66 ہزار ڈالر) بنگلہ دیش (10 ہزار ڈالر) اور اسی طرح بعض دوسرے ملکوں کے مصیبت زدگان کی خدمت کی ہے۔ اب وہ ائیر ایمبولنس سروس اور دوسرے بڑے بڑے ادارے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً جدید طرز کا ہسپتال، حیوانات کا ہسپتال، وغیرہ۔ ان کا سالانہ بجٹ تقریباً 10 کروڑ روپیہ ہے۔ اور یہ سب عوامی چندوں سے حاصل ہوتا ہے۔ سابق صدر ضیاء الحق نے ایک بار انہیں پانچ لاکھ روپیہ کا چیک بھیجا۔ مگر عبد الستار ایدھی نے اس کو واپس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام عوام کے لیے ہے اور عوام ہی کو اس کی قیمت دینا چاہیے ۔ وہ نہایت سادہ طور پر دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔ لوگوں کو ان کے اوپر اتنا زیادہ اعتماد ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader