ایک غلطی فہمی
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک غلطی فہمی ایک بار میں ایک دیہات میں گیا ہوا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے نیم کا درخت کاٹا اور اس کے بعد اس کے تنے کا چھلکا اتارنے لگا۔ ”آپ اس کا چھلکا کیوں اتار رہے ہیں،“ میں نے دیہات کے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا:”اگر چھلکا نہ اتارا جائے تو اس کے اندر کیڑے لگ جائیں گے اور لکڑی کو خراب کر دیں گے۔“ یہ 1965 ء کی بات ہے۔ اگست 1975ء میں دوبارہ مجھے ایک اور دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نیم کا ایک کٹا ہوا تنہ پڑا ہے۔ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس نیم کا ایک درخت کاٹ دیا تھا مگر اس کا چھلکا نہیں اتارا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے دس سال پہلے والی بات یاد آئی۔ میں نے سوچا کہ تجربہ کرکے دیکھوں کہ اس کی بات صحیح تھی یا نہیں۔ میں نے اس کے گھر کے ایک آدمی سے کہا کہ کوئی اوزار لاؤ اور اس کا چھلکا اتارو۔ جب اس نے چھلکا اتارا تو میں نے دیکھا کہ چھلکے کے نیچے ایک انچ کے موٹے موٹے کیڑے ہیں۔ یہ کیڑے نہایت نرم تھے مگر انہوں نے تنے کی سطح کو جگہ جگہ اس طرح کاٹ ڈالا تھا جیسے اس کے اوپر نالیاں بنائی گئی ہوں۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ قدرت اس طرح سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں تم کو نہایت محتاط رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ کیوں کہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ایک غلطی تمہاری ساری خوبیوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ ایک غفلت تمہارے سارے امکانات کو برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ قدرت یہ کرسکتی تھی کہ چھلکا اتارے بغیر نیم کے تنے کو محفوظ رکھتی۔ مگر اس نے یہ قانون بنا دیا کہ اس کا مالک اس کا چھلکا اتارے۔ اس کے بعد ہی اس کا تنہ اس دنیا میں محفوظ رہ سکے گا۔ اس قانون قدرت کا انطباق اب انسانی زندگی میں دیکھیے۔ کیوں کہ انسان کی دنیا میں بھی وہی قانون رائج ہے جو فطرت کی دنیا میں پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader