Urdu book · کتابِ زندگی

ایک غلطی فہمی

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

1944ء میں جون پور (یوپی) کے دو آدمیوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی سرمایہ ان لوگوں کے پاس چند سو سے زیادہ نہیں تھا۔ مگر ان کے مشترکہ کاروبار میں خدا نے برکت دی اور چھ سال میں ان کے کاروبار کی حیثیت 30 ہزار تک پہنچ گئی۔ اب دونوں میں اختلاف شروع ہو گیا اور نتیجہ علیحدگی تک پہنچا۔ ایک ثالث کے مشورہ سے طے ہوا کہ کاروبار تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ اس کی مالیت کا اندازہ کر کے اس طرح بٹوارہ ہو کہ ایک شخص نصف کے بقدر رقم لے لے اور دوسرے کو اثاثہ سونپ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ایک شخص کو مال واسباب اور دوسرے کو نقد پندرہ ہزار روپے دے دیے گئے۔ 1949ء میں پندرہ ہزار روپے آج کی قیمت کے لحاظ سے کئی لاکھ روپے کے برابر تھے۔ جس شخص نے نقد رقم لی تھی، اس نے جون پور کے ایک بازار میں کپڑے کی دکان کھول لی۔ انہیں شروع ہی سے بڑا اچھا میدان ملا اور ایک سال میں ان کا سرمایہ دگنا ہو گیا۔ اپنے کاروبار کے دوسرے سال میں وہ اس طرح داخل ہوئے کہ ان کے سامنے ترقی اور کامیابی کا ایک نہایت وسیع دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اب ایک کمزوری نہایت آہستگی سے ان کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ خرچ کے بارے میں لاپروا ہو گئے۔ اپنی ذات پر، بیوی بچوں اور دوستوں پر ان کا خرچ بے حساب بڑھ گیا۔ وہ بھول گئے کہ دن بھر کی بکری سے ایک ہزار روپے جوان کے گلہ میں آئے ہیں، ان میں سے صرف 10 فیصدیان کا ہے۔ باقی 90 فیصد مہاجن کا ہے۔ وہ اپنے گلہ کی رقم اس طرح خرچ کرنے لگے گویا یہ سارا روپیہ ان کی آمدنی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے وکیل کی جیب میں فیس کی جورقم آتی ہے وہ سب اس کی آمدنی ہوتی ہے۔ دکان داری کے ساتھ اس قسم کی شاہ خرچی نہیں چل سکتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہو گئے۔ ان کے پاس پندرہ ہزار میں سے ایک روپیہ بھی باقی نہ رہا۔ اس واقعہ کے بعد وہ تقریباً پندرہ سال تک زندہ رہے۔ مگر دوبارہ کوئی کام نہ کر سکے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ تم ایک ”چلہ“ دے دو تو تمہارا کام بن جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کیا۔ مگر قانون قدرت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page