Urdu book · کتابِ زندگی

اتھاہ امکانات

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم کیا کہ اسٹنگر کی ٹکنیک یہ ہے کہ وہ گرمی کی طرف بھاگتا ہے۔ چونکہ اس وقت فضا میں سب سے زیادہ گرم چیز ہوائی جہاز کا انجن ہوتا ہے اس لیے وہ اس کا پیچھا کر کے انجن سے ٹکرایا جاتا ہے، اس طرح وہ جہاز کو برباد کر دیتا ہے۔ روسیوں نے اسٹنگر کے توڑ میں ”فش‘‘ کو دریافت کیا۔ یہ خاص قسم کا کیمیائی مادہ ہے جو ہوائی جہاز سے باہر آتے ہی جل اٹھتا ہے، اور تیز شعلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس شعلہ کی گرمی ہوائی جہاز کے انجن کی گرمی سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ہوائی جہاز کی طرف چلایا ہوا اسٹنگر ہوائی جہاز سے ٹکرانے کے بجائے شعلہ (فش) کی طرف جا کر اس سے ٹکرایا جاتا ہے۔ اس طرح ہوائی جہاز اس کی زد سے بچ جاتا ہے۔ اس واقعہ میں ایک بے حد اہم نکتہ ہے، اور وہ ہے فریق ثانی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا۔ مقابلہ کی اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو فریق ثانی کی کمزوری کی دریافت کر سکیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والی اہلیت کا ثبوت دیں۔ روسیوں نے اس معاملہ میں اسی اہلیت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اسٹنگر کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا کہ وہ اپنے اندر انسانی عقل نہیں رکھتا۔ اس کی ضرب شعوری ضرب نہیں ہے، وہ ایک میکانکی ضرب ہے۔ وہ ایک مادی چیز ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز کو نہیں جانتا۔ وہ ”گرمی“ کو نشانہ بنانا جانتا ہے، نہ کہ ”ہوائی جہاز“ کو۔ روسیوں نے جیسے ہی اس راز کو دریافت کیا، انہوں نے گویا آدھی جنگ جیت لی۔ اسٹنگر کے مقابلہ میں فش کا استعمال اسی تدبیر کی ایک کامیاب مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا توڑ ہے۔ یہاں خطرات کے مقابلہ میں ہمیشہ امکانات کی تعداد از یادہ ہوتی ہے۔ بشرطیکہ مسائل پیش آنے کے بعد آدمی اپنی ہمت کو نہ کھوئے۔ وہ خدا کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے خطرہ کا توڑ دریافت کر سکے۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 9541)۔ یعنی ایک مشکل دو آسانی پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ دوسرے الفاظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page