اتھاہ امکانات
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
اتھاہ امکانات افغانستان کے سفر (اکتوبر 1988) میں ایک دلچسپ چیز دیکھنے کو ملی جو اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی۔ اس کو عام زبان میں فش (fish) کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی ساخت کے اس خطرناک ہتھیار کا توڑ ہے، جس کو اسٹنگر (stinger) کا نام دیا گیا ہے۔ فش کا حربہ استعمال کرنے کو فشنگ (fishing) کہتے ہیں۔ افغانستان میں روسی فوجوں کے داخلہ (دسمبر 1979) کے بعد روسیوں اور افغان مجاہدین کے درمیان مستقل جنگ شروع ہوگئی۔ افغان مجاہدین صرف زمینی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب کہ روسیوں کا حال یہ تھا کہ وہ ہیلی کاپٹر پر اڑ کر ان کے ٹھکانوں کو اپنے بم کا نشانہ بناتے تھے۔ یہ بے حد نازک صورت حال تھی۔ افغانی مجاہدین اگرچہ گن کے ذریعے جہازوں کو مارنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر گن سے نکلی ہوئی گولی بالکل سیدھی جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسی چیز جو تیز رفتاری کے ساتھ فضا میں متحرک ہو، اس کو گولی کا نشانہ بنانا بے حد دشوار ہے۔ چنانچہ افغانی مجاہدین کوشش کے باوجود، روس کے بمبار جہازوں کو مار گرانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہورہے تھے۔ اس وقت امریکہ نے افغانی مجاہدین کو جدید قسم کا اینٹی ائیر کرافٹ میزائل سپلائی کیا، جس کو اسٹنگر (stinger) کہا جاتا ہے۔ اب افغانی مجاہدین کوروس کے بمبار جہازوں پر واضح بالادستی حاصل ہوگئی۔ وہ جب بھی فضا میں روسی جہاز دیکھتے تو اس پر اسٹنگر داغ دیتے، اور اسٹنگر پیچھا کرکے جہاز کو مارتا۔ کیوں کہ اسٹنگر عام گولے کی طرح بالکل سیدھا نہیں جاتا۔ وہ جہاز کے رخ پر اپنا رخ بدلتا ہوا جاتا ہے اور اس کو بہر حال مار کر رہتا ہے۔ پہلے اگر افغانی مجاہدین دفاعی حیثیت میں تھے تو اب روسی فضائیہ دفاعی حیثیت میں آ گیا۔ مگر اس دنیا میں امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی ایجاد اگلی زیادہ بڑی ایجاد کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ چنانچہ روسیوں نے بہت جلد اسٹنگر کا توڑ دریافت کر لیا۔ اسی توڑ کا نام ”فش“ ہے۔ روسیوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader