Urdu book · کتابِ زندگی

نمونہ کی اقلیت

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایشیائی لوگ کنفیوشش کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ جب ایشیائی امریکیوں کی ایک قابلِ تعریف خصوصیت امریکہ والوں کے سامنے آئی تو انہوں نے ان کی اس خصوصیت کو ان کے قومی بزرگ (کنفیوشش) سے جوڑ دیا۔ ایشیائی امریکیوں کے ممتاز عمل نے امریکیوں کی نظر میں ان کے مذہب اور ان کی تہذیب کو قابلِ توجہ بنا دیا۔ اسپان کی رپورٹ کے مطابق، نیو یارک یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے کہا کہ جب میں اپنے ایشیائی طلبہ کو دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی زیادہ تو کنفیوشش کی تعلیمات کا نتیجہ ہے: When I look at our Asian-American students, I am certain that much of their success is due to Confucianism. (p.32) ایشیائی مہاجرین کا مقابلہ جہاں عام امریکیوں سے پیش آتا ہے، وہ ان کے مقابلہ میں زیادہ لائق (overqualified) ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ عام امریکیوں کے لیے ایک مہمیر یا چیلنج بن گئے ہیں۔ وہ امریکی نوجوانوں میں محنت کا نیا جذبہ ابھارنے کا ذریعہ ثابت ہورہے ہیں۔ ایشیائی مہاجرین نے مثبت طور پر اپنا ذاتی مسئلہ حل کیا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی سماج کا اپنا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ ایشیائی مہاجرین نے امریکہ میں صرف ایک نسل کے اندر وہ کامیابی حاصل کی ہے جس کو عام طور پر لوگ تین نسلوں میں حاصل کرتے ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی نے امریکہ میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو ایشیائی اخلاقیاتِ عمل (Asian work ethics) کہا جاتا ہے۔ اب وہاں کہا جانے لگا ہے کہ اگر اعلیٰ ترقی حاصل کرنا ہے تو ایشیائی اخلاقیاتِ عملی کو اختیار کرو۔ یہی دروازہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر کھلا ہوا ہے۔ مسلمان اگر ان قومی جھگڑوں کو چھوڑ دیں جن میں ان کے سطحی لیڈروں نے انہیں بے فائدہ طور پر اُلجھارکھا ہے، اور وہ اسلام کے دیے ہوئے ابدی اصولوں پر اپنی زندگی کی مثبت تعمیر شروع کر دیں تو اس ملک میں وہ ایک نئے انقلاب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح مسلمان نہ صرف اپنا مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ اس ملک کو ایک نیا معیار دیں گے جس کو ایک لفظ میں مسلم اخلاقیاتِ عمل (Muslim work ethics) کہا جا سکتا ہے اور جب ایسا ہوگا تو مسلمان اس ملک میں سرمایہ بن جائیں گے جو کہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page