نمونہ کی اقلیت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے برعکس، مثال امریکہ کے ایشیائی امریکی گروہ کی ہے۔ انہوں نے اپنے مسئلہ کا حل یہ دریافت کیا کہ وہ اس کی ساری ذمہ داری خود قبول کریں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں اور آخری حد تک پرامن رہتے ہوئے دوسروں سے زیادہ محنت کریں۔ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح عمل کرنے کے نتیجہ میں ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا، بلکہ انہوں نے اپنے عددی تناسب سے زیادہ بڑا حصہ اپنے لیے پا لیا۔ منفی رویہ اختیار کرنا گویا اپنے مسئلہ کا بوجھ دوسروں کے سر پر ڈالنا ہے اور مثبت رویہ کا مطلب اپنے مسئلہ کی ذمہ داری خود قبول کرنا۔ اس لیے مثبت رویہ اختیار کرنے کا مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ سماج میں کوئی پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتے۔ چنانچہ ایشیائی امریکیوں نے جب مثبت انداز سے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی راہ نکالی تو وہ امریکی سماج میں مزید فائدوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بن گئے۔ اول یہ کہ انہوں نے امریکی نوجوانوں کے درمیان مقابلہ ومسابقت کی فضا پیدا کی۔ وہ امریکی نوجوان جو اپنے کو محفوظ سمجھ کر محنت میں کمی کرنے لگے تھے، ان کے اندر یہ جذبہ ابھرا آیا کہ اگر انہیں زندہ رہنا ہے اور ترقی کرنا ہے تو ان کو بھی ایشیائیوں کی طرح زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق، خود امریکی دانشوروں کو اعتراف کرنا پڑا کہ ایشیائی امریکیوں نے ہمارے نوجوانوں کی سستی کو ختم کر کے ان کو از سر نو چست بنا دیا ہے۔ ہمارے سماج میں ان کی موجودگی ہمارے لیے ایک عظیم رحمت ہے: Their Presence is going to be great blessing for society (p. 53) اسپان (دسمبر 1987) کی رپورٹ کے مطابق، نیو یارک کے ایک درمیانی عمر کے آدمی نے کہا کہ ایشیائی امریکیوں کے لیے خدا کا شکر یہ، وہ ہمارے اسکولوں میں دوبارہ معیار کو واپس لا رہے ہیں: Thank God for the Asians. They bringing back standards to our schools (p.32). 2۔ ایشیائی امریکی گروہ کو دوسرا فائدہ یہ ملا کہ جب انہوں نے معاشی عزت حاصل کی تو ان کی تہذیب بھی لوگوں کی نظر میں با عزت بن گئی۔ ان کی قومی روایات امریکیوں کی نظر میں محترم بن گئیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader