Urdu book · کتابِ زندگی

حل رخی پالیسی

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

حل رخی پالیسی موجودہ سال کا غالباً سب سے زیادہ اہم واقعہ سوویت روس اور امریکہ کی وہ مفاہمت ہے جس کو ٹائم (30 مئی 1988) نے بجاطور پر عظیم اتحاد (grand compromise) کا نام دیا ہے۔ سوویت روس اور امریکہ دونوں دنیا کی سب سے بڑی طاقت (superpowers) شمار ہوتے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے دونوں کے درمیان سخت رقابت جاری تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ٹکراؤ کی پالیسی پر قائم تھے۔ دونوں ملکوں کے پریس اور میڈیا کا کام یہ تھا کہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور ایک دوسرے کی مذمت کرتے رہیں۔ مگر لمبے تجربہ کے بعد، اب دونوں ٹکراؤ کے بجائے صلح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے بات چیت کی دوڑ پر اپنی توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ وہ رقابت کے طریقہ کو چھوڑ کر مفاہمت کے طریقہ کو اپنارہے ہیں۔ سوویت روس کے ایک ذمہ دار نے اس نئی پالیسی کو حل رخی (solution-oriented) پالیسی کا نام دیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں کی تمام توجہ اگر اس پر جمی ہوئی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کریں تو اب انہوں نے اس قسم کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ اس پر لگا دی ہے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ یہ واقعہ جو سوویت روس اور امریکہ کے درمیان پیش آیا ہے، اس میں دوسری قوموں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف اور ٹکراؤ کی پالیسی اتنا مہنگا سودا بن چکی ہے کہ بڑی طاقت بھی اس کا تحمّل نہ کر سکیں۔ پھر چھوٹی قومیں کیوں کر اس تباہ کن مشغلہ کا تحمّل کر سکتی ہیں۔ حقیقت پسندی کی طرف نکیتا خروشوف 1958ء سے 1964ء تک سوویت روس کے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے سرمایہ دار دنیا کو خطاب کرتے ہوئے اپنا مشہور جملہ (ہندوستان ٹائمس 28 جون 1988ء) کہا تھا کہ ہم تم کو دفن کر دیں گے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page