حل رخی پالیسی
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
We will bury you. اسی طرح امریکہ کے صدر یڈنٹ رونالڈ ریگن نے 1983ء میں سوویت روس کو شیطانی سلطنت(the evil empire) قرار دیا تھا۔ امریکی افسروں کا کہنا تھا کہ ہم اشتراکی روس کو سمندر میں دھکیل دیں گے۔ مگر اشتراکی انقلاب کے ستر سال بعد 1988 ء میں آخر کار دونوں ملکوں کو اپنا ذہن بدلنا پڑا۔ روس کے لیڈروں نے گفت و شنید کے لیے امریکہ جانا شروع کیا۔ رونالڈ ریگن نے خود ماسکو کا دورہ (28 جون تا 2 جولائی 1988ء) کیا جس کو وہ اس سے پہلے خارج از امکان سمجھتے تھے۔ دورے سے پہلے واشنگٹن (ہندوستان ٹائمز 26 مئی 1988ء) میں انہوں نے کہا کہ ماسکو کے ساتھ امریکہ کا تعلق حقیقت پسندی کے تحت قائم ہونا چاہیے: U.S. relations with Moscow must be guided by rcalism. چالیس سال سے دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ (arms race) جاری تھی۔ دونوں ملک ایک دوسرے کو برباد کرنے کے لیے تاریخ کے خطرناک ترین ہتھیار بنانے میں مشغول تھے، مگر آج وہ اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں پر خود ہی پابندی لگا رہے ہیں، حتی کہ اس کو ضائع کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (3 اگست 1988ء) سیکشن 2 صفحہ 1 پر ایک خبر ہے جس کی سرخی یہ ہے: USSR destroys 4 missiles (سوویت روس اپنے چار میزائل کو برباد کرتا ہے)۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ 2 اگست 1988ء کو سوویت روس نے سریوزیک (Saryozek) میں چار چھوٹی رینج کے میزائل (22-OTR) برباد کر دیے ۔ یہ واقعہ مختلف ملکوں کے مشاہدین کی موجودگی میں ہوا جن میں ہندوستان اور امریکہ کے مشاہدین بھی شامل تھے۔ میزائل کے خاتمہ کا یہ عمل اس معاہدہ کے تحت کیا گیا ہے جور یگن اور گوربا چوف کے درمیان ہوا ہے۔ معاہدہ کے تحت سوویت روس اگلے تین سال میں اپنے 1752 میزائل کو ضائع کرے گا جن کا رینج 500 کلومیٹر سے لے کر 5500 کلومیٹر تک ہے۔ امریکہ، حسب معاہدہ اپنے اسی قسم کے 859 میزائل کو ضائع کرے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader