حل رخی پالیسی
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس طرح کی ہے:" اور زیادہ جمہوریت اور زیادہ سوشلزم محنت کش انسان کے لیے اور زیادہ بہتر زندگی قوم کے لیے اور زیادہ عظمت در رفعت اور ثروت۔ " مگر حقیقت یہ ہے کہ " پرستر و نیکاست سوشلز م سے واپسی ہے ، نہ کہ سوشلزم کی طرف " اگلا قدم "۔ کیوں کہ مارکس اور لینن کی تشریح کے مطابق ، سوشلزم کی ترقی سرمایہ داری کی موت پر ہونے والی تھی۔ سوشلزم کی ہر پیش قدمی سرمایه دارانہ نظام کی پسیاتی کے ہم معنی تھی ۔ مگر آج سوویت روس ، گورباچوف کی قیادت میں ، سرمایہ دارانہ نظام سے مفاہمت کر رہا ہے ، بلکہ وہ اس کی قدروں کو اپنے یہاں رائج کرنے میں ترقی اور خوش حالی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ پر ستر و نیکاسوشلزم کے اصولوں کی صداقت کا ثبوت نہیں ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دنیا میں کامیابی حقیقتوں کے اعتراف کے بغیر ممکن نہیں۔ رگین کے الفاظ میں، اس زمین پر ہمیں تمام اچھے اور برے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے۔ حقیقت پسندی اور مفاہمت ہی اس دنیا میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔ نتیجه بحث روس اور امریکہ کے تعلقات میں یہ تبدیلی بلاشبہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ جدید تاریخ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹکراؤ کی پالیسی آخری حد تک اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ اپنے حریف پر الزام لگانا ، اس کی کاٹ میں لگے رہنا ، اس کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنا ، روس اور امریکہ جیسی طاقتوں کے لیے بھی سراسر بے فائدہ ہے ، کجا کہ دوسری کمزور قو میں اس قسم کی منفی پالیسی اختیار کر کے کسی واقعی نتیجہ کی امید کرسکیں۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ ، دونوں کے لیے مسئلہ کا حل اسی طریق کار میں ہے ۔ اس دنیا میں عقل مندی یہ ہے کہ آدی دوسرے کی تخریب کرنے کے بجائے اپنی تعمیر میں لگ جائے۔ مسئلہ کو لے کر اس کے نام پر چیخ پکار کرنا یا حریف کے مقابلہ میں لڑائی چھیڑنا ، صرف اپنے وقت اور قوت کو ضائع کرنا ہے۔ اس کے سوا اس کا اور کوئی انجام نہیں۔ ایک لفظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی اور کامیابی کا راز حل رُخی پالیسی میں ہے ، نہ کہ مذمت رخی (blame-oriented) پالیسی میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader