Urdu book · کتابِ زندگی

حل رخی پالیسی

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تحریک کے تحت روس کے سابق اشتراکی ڈھانچہ میں انقلابی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ اس میں مذہبی آزادی سے لے کر اپنے روایتی دشمن امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تک شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں نہایت سبق آموز رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک رپورٹ وہ ہے جو لاس اینجلس اور واشنگٹن پوسٹ نیوز سروس کے تحت اخبارات میں آئی ہے۔ ہندوستان ٹائمس (16 جنوری 1988ء) نے اس کو مسٹر رائے گٹ مین (Roy Gutman) کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان حسب ذیل ہے: Kremlin, White House now realistic. (p. 20) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک تاریخی تغیر (Historic shift) آیا ہے۔ دونوں ملکوں میں نئی سوچ (New thinking) پیدا ہوئی ہے۔ کریملن اور وائٹ ہاوس دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں حقیقت پسند بن رہے ہیں۔ یہ رپورٹ ہم یہاں علیحدہ صفحہ پر نقل کر رہے ہیں۔ روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ (Alexander Bessmertnykh) جو اپنے ملک کے سفیر کی حیثیت سے 12 سال تک امریکہ میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے نیوز ڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں نئی سوچ (new thinking) پیدا ہوئی ہے۔ دونوں کے تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی (dramatic change) اور تاریخی فرق (historic shift) آ رہا ہے۔ امریکی ذمہ دار اس سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم کمیونزم کے پھیلاؤ کو روک دیں گے ، ہم ان کو سمندر میں غرق کر دیں گے ۔ مگر اب انہوں نے جان لیا ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ اس سے پہلے دونوں ملک ایک دوسرے کی مذمت کرنے اور ایک دوسرے کی کاٹ کرنے میں لگے رہتے تھے۔ مگر یہ پالیسی سراسر بے فائدہ رہی۔ اب دونوں طرف کے لوگ حقیقت پسند بن رہے ہیں۔ اب ہماری ٹیم اور ان کی ٹیم دونوں حل رخی ذہن رکھنے والے ہیں: That team and our team are solution-oriented. پرستر وئیکا کے مقاصد اور نشانے کیا ہیں، اس کی وضاحت مسٹر گورباچوف نے مخصوص اشتراکی زبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page