یہ اسلام نہیں
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اسلام نہیں ایک مقام پر رمضان کے زمانہ میں فساد ہو گیا۔ وہاں کے ایک صاحب سے 25 دسمبر 1987ء کو میری ملاقات ہوئی۔ میں نے واقعہ کی تفصیل پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ رات کا وقت تھا۔ مسلمان مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں سڑک سے شور و غل سنائی دیا۔ معلوم ہوا کہ دوسری قوم کے لوگوں کی شادی پارٹی گزر رہی ہے اور جگہ جگہ رک کر گاتی بجاتی ہے۔ اس وقت مسجد سے نکل کر کچھ مسلمان سڑک پر آئے اور جلوس والوں سے کہا کہ آپ لوگ یہاں شور نہ کریں۔ کیوں کہ مسجد کے اندر ہماری نماز ہو رہی ہے۔ مگر وہ لوگ نہیں مانے۔ اس پر تکرار ہوئی یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے فساد ہو گیا۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ لوگوں کا طریقہ ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ابتدائی زمانہ میں مکہ پر اور بیت اللہ پر مشرکین کا قبضہ تھا۔ وہ لوگ رسول اللہ کو اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح سے ستاتے تھے۔ اسی میں سے ایک یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جب بیت اللہ میں جاتے تو وہ لوگ وہاں آ کر شور و غل کرتے۔ وہ سیٹی بجاتے اور تالیاں پیٹتے اور کہتے کہ یہ ہمارا عبادت کا طریقہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ (8:35) یعنی اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ سیٹی بجانا اور تالی پیٹنا۔ تو اب عذاب چکھو اپنے انکار کی وجہ سے۔ اس آیت کی تشریح کے سلسلہ میں چند تفسیروں کے حوالے یہ ہیں: وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ كَانُوا يَضَعُونَ خُدُودَهُمْ عَلَى الْأَرْضِ وَيُصَفِّقُونَ وَيُصَفِّرُونَ. قَالَ مُجَاهِدٌ وَإِنَّمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ذَلِكَ لِيَخْلِطُوا بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader