Urdu book · کتابِ زندگی

یہ اسلام نہیں

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ يَسْتَهْزِئُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ (تفسير ابن كثير، جلد 4، صفحہ (52)۔ یعنی صحابی رسول ابن عمر نے کہا کہ مکہ کے مشرکین اپنے رخسار زمین پر رکھتے اور تالی بجاتے اور سیٹی بجاتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو گڈ مڈ کر دیں اور زُهری نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے ایسا کرتے تھے۔ وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، وَهُمْ مُشَبِّكُونَ بَيْنَ أَصَابِعِهِمْ، يُصَفِّرُونَ فِيهَا، وَيُصَفِّقُونَ. وَكَانُوا يَفْعَلُونَ نَحْوَ ذَلِكَ إِذَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلَاتِهِ، يَخْلِطُونَ عَلَيْهِ (تفسير النسفي، جلد 1، صفحہ 644)۔ یعنی وہ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے اور وہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر اس میں سیٹی بجاتے اور تالیان بجاتے۔ وہ ایسا اس وقت کرتے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن پڑھتے، وہ گڈ مڈ کرنا چاہتے تھے۔ أي ما كانت عبادة المشركين وصلاتهم عند البيت الحرام إلا تصفيراً وتصفيقاً، وكانوا يفعلونهما إذا صلى المسلمون ليخلطوا عليهم صلاتهم (صفوة التفاسير، جلد 1، صفحہ 467)۔ یعنی بیت اللہ الحرام میں مشرکین کی عبادت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹی بجاتے اور تالیاں بجاتے۔ اور یہ دونوں کام وہ اس وقت کرتے جب کہ مسلمان نماز پڑھتے تا کہ ان کی نماز کو گڈ بڑ کر دیں۔ عن سعيد قال كانت قريش يعارضون النبي صلى الله عليه وسلّم في الطواف يستهزؤن به يصفرون ويصفقون ... وقال مقاتل كان النبي صلى الله عليه وسلّم إذا صلى في المسجد قام رجلان عن يمينه يصفران ورجلان عن يساره فيصفقان ليخلطوا على النبي صلى الله عليه وسلّم صلوته (التفسير المظهری، جلد 4، صفحہ (63)۔ یعنی حضرت سعید نے کہا کہ قریش طواف کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتے۔ وہ آپ کا مذاق اڑاتے، وہ سیٹی بجاتے اور تالی بجاتے... اور مقاتل نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد حرام میں نماز پڑھتے تو آپ کے دائیں طرف دو آدمی کھڑے ہو جاتے اور دونوں سیٹی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page