یہ اسلام نہیں
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
بجاتے اور دو آدمی آپ کے بائیں طرف کھڑے ہو جاتے اور تالیاں بجاتے تا کہ رسول اللہ پر آپ کی نماز کو گڈ مڈ کردیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں 13 سال تک رہے۔ وہاں مسلسل آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا رہا، جس کا ذکر اوپر کے اقتباسات میں آیا ہے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ اس کے خلاف کوئی احتجاج یا کوئی جوابی کارروائی کریں۔ آپ اس قسم کی تمام باتوں پر یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس زمانہ میں اہل ایمان کی ایک تعداد جمع ہوگئی تھی۔ یہ لوگ نہایت بہادر اور جان نثار تھے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر مشرکوں پر ہجوم کریں یا ان کو شور و غل سے روہنے کے لیے کوئی جوابی عملی کارروائی کریں۔ مشرکوں کے شور و غل پر آپ کا چپ رہنا خوف کے تحت نہیں تھا بلکہ منصوبہ کے تحت تھا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ آپ خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کرنا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے ضروری سمجھا کہ جھگڑے اور ٹکراؤ والی باتوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی ان تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دعوت و تبلیغ کی محنت میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حالات میں تبدیلی فرمائی۔ اس کے بعد مشرکین کے شور کا بھی خاتمہ ہو گیا اور خود مشرکین کا بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کے اندر گھس کر شور و غل کیا جاتا تھا۔ تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ مسجد کے قریب کی سڑک پر کوئی جلوس شور کرتا ہوا گزرے تو وہ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر اسلام وہ ہے جو رسول اللہ نے کیا تو مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلام نہیں اور اگر اسلام وہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان کر رہے ہیں تو رسول اللہ نے جو کچھ کیا وہ اسلام نہیں تھا۔ اب مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ دونوں میں سے جس بات کو چاہیں اپنے لیے پسند کر لیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader