Urdu book · کتابِ زندگی

حقیقت پسندی

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

قریب آچکے ہیں کہ کس طرح دونوں ملکوں میں نئے تعلقات قائم کیے جائیں ۔ ہم دونوں ہی نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں : چین اور روس نے جب دیکھا کہ ان کی باہمی دشمنی ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہی ہے تو دونوں نے طے کیا کہ وہ بے فائدہ دشمنی کو ختم کر کے آپس میں دوستانہ تعلقات قائم کر لیں۔ اس نئے فیصلہ تک پہنچنے کے لیے انہیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے مطالبات کو چھوڑ دینے پر راضی ہوئے۔ انہوں نے ایک ناقابل برداشت چیز کو برداشت کیا۔ تاکہ اپنے لیے زیادہ بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔ اسی کا نام حقیقت پسندی ہے ۔ اس حقیقت پسندی کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ امریکہ اور روس اور چین موجودہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور قو میں ہیں۔ جب طاقت ور قوموں کا حال یہ ہے کہ حقیقت پسندی اور مفاہمت کے سوا ان کے لیے زندگی کا کوئی اور طریقہ نہیں، تو کمزور قومیں کیوں کر ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کر کے زندہ رہ سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں کمزور قوموں کے لیے حقیقت پسندی اور مفاہمت کا طریقہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جتنا طاقت ور قوموں کے لیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page