Urdu book · کتابِ زندگی

ایک تقابل

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تقابل لارڈ میکالے 1834 (T. B. Macaulay)ء میں ہندوستان آیا۔ سپریم کونسل آف انڈیا کے ایک اہم ممبر کی حیثیت سے اس نے وہ تعلیمی نظام شروع کیا جو بالآخر ”انگریزی نظام تعلیم“ کے نام سے پورے ملک میں رائج ہو گیا۔ اس نظام تعلیم کا مقصد، میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ، اس کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی مگر خیالات کے اعتبار سے انگریز ہو: So that a generation may arise which will be Indian in birth and English in thought. مسلمانوں کے تمام بے ریش اور باریش لیڈر (سر سید کے واحد استثناء کو چھوڑ کر) اس نظام تعلیم کے خلاف ہو گئے۔ وہ اس کی مخالفت میں تقریر کرنے لگے۔ کسی نے اس کو ”قتل گاہ“ کہا۔ کسی نے اس کے اوپر یہ شعر چسپاں کیا: بچوں کے کبھی قتل سے بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی بیشتر لوگوں نے اس تعلیمی نظام میں شرکت نہیں کی۔ جو لوگ اس میں داخل ہو گئے تھے وہ درمیان ہی میں اس کو چھوڑ کر اس سے الگ ہو گئے۔ اس مخالفانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں سے کم از کم دو سو سال پیچھے ہو گئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی یہی پسماندگی ہے۔ کیوں کہ تعلیم سے محرومی آدمی کو بے شعور بناتی ہے اور جو لوگ بے شعور ہوں، اس دنیا میں ان کے لیے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ اب ایک اور تصویر دیکھیے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں جاپان کو کے مقابلہ میں شکست ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ سیاسی، فوجی، انتظامی، ہر اعتبار سے جاپان پر قابض ہو گیا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page