Urdu book · کتابِ زندگی

اعلیٰ کامیابی

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں تو کوئی مسلمان نہ آئی اے ایس میں چنا جائے اور نہ ٹاپ کر سکے۔ تاہم اگر بالفرض ان میں کسی درجہ میں تعصب کا وجود فرض کیا جائے تب بھی ان کا تعصب اس معاملہ میں فیصلہ کن نہیں بن سکتا۔ اس کی وجہ ان امتحانات کا نظام ہے۔ تحریری امتحانات پورے 1800 نمبر کے ہوتے ہیں۔ جب کہ انٹرویو میں صرف 250 نمبر ہوتے ہیں۔ اب اگر بالفرض تعصب کی بنیاد پر انٹرویو میں کسی امید وار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو محض انٹرویو میں اچھا نمبر حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اس کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا بشرطیکہ تحریری امتحان کے پرچوں میں اس نے اچھے نمبر حاصل کیے ہوں۔ کیوں کہ جب کامیاب امیدواروں کی آخری فہرست بنائی جاتی ہے تو تحریری امتحانات اور انٹرویو دونوں میں حاصل کردہ نمبروں کو یکجا کر کے شمار کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ صرف انٹرویو میں حاصل کردہ نمبر کی بنیاد پر فیصلہ کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک سبق آموز بات یہ ہے کہ عامر سبحانی صاحب نے تحریری امتحانات میں مجموعی طور پر 64 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں، جب کہ انٹرویو میں ان کو 74 فیصد نمبر ملے ہیں۔ یعنی انٹرویو میں 10 فیصد زیادہ۔ مسٹر سبحانی سے پوچھا گیا کہ انہوں نے سول سروس کے امتحان کے لیے کس طرح تیاری کی تھی۔ اس کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ مہینہ تک وہ روزانہ 12 سے 14 گھنٹہ تک مطالعہ میں صرف کرتے تھے۔ اس سے پہلے بھی انہیں آدھی رات تک پڑھنے کی عادت تھی۔ وہ نصابی کتابوں کے علاوہ انڈین اینڈ فارن ریویو، یوجنا اور انڈیا ٹوڈے کا برابر مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے علاوہ وہ دہلی سے نکلنے والے کئی انگریزی اخبارات کوروزانہ پوری طرح پڑھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسٹر عامر سبحانی کی غیر معمولی کامیابی کا راز غیر معمولی محنت ہے۔ وہ اپنی محنت کی وجہ سے میٹرک سے لے کر ایم اے تک ہمیشہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے تجربہ کی روشنی میں آئی اے ایس کے امتحان میں شریک ہونے والے نوجوانوں کو کیا مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سخت محنت اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی پوری جدوجہد۔ (8 جون 1987 کے انگریزی اخبارات، نئی دنیا 30 جون 1987، بلٹز 15 اگست 1987)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page