اعلیٰ کامیابی
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ کامیابی 1986-87 کے سول سروس کے امتحانات میں ابتدائی جانچ (Preliminary test) میں پورے ملک سے تقریباً 94 ہزار امیدوار شریک ہوئے۔ ان میں سے صرف دس ہزار امیدواروں کو تحریری امتحان (Main examination) میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا گیا۔ اس مرحلہ کے بعد سترہ سو امیدواروں کو انٹرویو کے لیے چنا گیا۔ انٹرویو کے بعد جن امیدواروں کو آخری طور پر اعلیٰ ملکی ملازمتوں کا اہل قرار دیا گیا، ان کی تعداد 855 تھی۔ ان امتحانات کے آخری نتیجہ کا اعلان 8 جون 1987ء کے اخبارات میں شائع ہوا۔ اس کے ساتھ کامیاب ہونے والوں کی فہرست بھی شامل تھی۔ اس وقت لوگوں نے دیکھا کہ اتنی لمبی فہرست اور اتنی طویل جانچ کے بعد سارے ملک سے جو لوگ سول سروسز کے اہل قرار دیے گئے ہیں ان میں سب سے پہلا نام ”عامر سبحانی“ کا ہے۔ اس اعلیٰ ملکی امتحان میں عامر سبحانی نے ٹاپ کا درجہ حاصل کیا تھا۔ یہ تنہا واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے اعلیٰ ترین کامیابی کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ کوئی تعصب یا کوئی جانبداری ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ ہندوستان کی کل آبادی میں مسلمان تقریباً 12 فیصد ہیں۔ اس نسبت سے 855 کی فہرست میں کم از کم ایک سو مسلمانوں کا نام ہونا چاہیے تھا۔ مگر عملاً صرف گیارہ مسلمان کامیاب ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہو سکے ہیں۔ عام طور پر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ تعصب ہے۔ مگر سول سروس کے امتحانات کے طریقہ پر غور کیجیے تو یہ بات بالکل بے بنیاد معلوم ہوگی۔ سول سروس کے تحریری امتحانات میں جواب کی کاپیوں پر امیدواروں کے نام لکھے ہوئے نہیں ہوتے۔ بلکہ صرف کوڈ نمبر درج ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ممتحن کے لیے یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں کہ امیدوار کا تعلق کس فرقہ سے ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ انٹرویو کا ہے۔ انٹرویو بورڈ پانچ سے سات ممبران پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر ممبر اپنے مضمون کا ایکسپرٹ ہوتا ہے۔ اگر یہ ممبران متعصب اور تنگ نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader