راز حیات
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
رازِ حیات جاپان کے لوگ اپنے آپ کو سورج کی اولاد سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی نسل دوسری نسلوں سے برتر ہے۔ انہیں حق ہے کہ وہ دوسری قوموں پر بالا تری حاصل کریں۔ اس ذہن نے ان کے یہاں اس نعرے کی صورت اختیار کی کہ مشرقی ایشیا جاپان کے لیے: East Asia for japan جاپانی قوم کا یہ ذہن اس کی قدیم تاریخ میں اس کو متشدد بنائے ہوئے تھا۔ خاص طور پر 1937ء سے لے کر 1945ء تک وہ اپنے اس خود ساختہ حق کے لیے دوسری قوموں سے لڑتے رہے۔ ابتدائی طور پر اس جنگ میں جاپان کو کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ مثلاً 1942ء میں انہوں نے منیلا پر قبضہ کر لیا اسی طرح سنگاپور، نذر لینڈ اور رنگون ان کے قبضہ میں آگیا۔ مگر آخر کار انہیں زبردست شکست ہوئی۔ مزید پانے کی کوشش میں انہوں نے ملے ہوئے کو بھی کھو دیا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اور جاپان ایک دوسرے کے حریف تھے۔ جاپان کے پاس سادہ بم تھے۔ امریکہ نے اس کے مقابلہ میں جوہری بم تیار کر لیا۔ اب دونوں کے درمیان طاقت کا توازن ٹوٹ گیا۔ جولائی 1945ء میں امریکہ نے جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرائے۔ جاپان کی فوجی طاقت تہس نہس ہو گئی۔ امریکہ کو جیت ہوئی اور جاپان کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہ رہی کہ وہ اپنے لیے اس حیثیت کو قبول کرے جس کو ایک مبصر نے ذلت آمیز ہتھیار ڈالنے (humiliating) (surrender سے تعبیر کیا ہے (ٹائم 13 اپریل 1987، صفحہ 15)۔ اب جاپان نے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا۔ 14 اگست 1945ء کو شتان جاپان ہیرو وہیتو نے قوم کے نام ایک ریڈیائی پیغام نشر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے عظیم امن کی بنیاد رکھیں اور اس مقصد کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کریں اور اس چیز کو سہیں جو سہنے کے قابل نہیں۔ We have resolved to pave the way for a grand peace for all the

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader