راز حیات
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
generations to come by enduring the unendurable and suffering what is unsuffcerable. اس فیصلے کے مطابق جاپان نے 2 ستمبر 1945ء کو اپنی شکست کے کاغذات پر دستخط کر دیئے۔ اس نے جاپان کے اوپر امریکہ کی بالا دستی تسلیم کرلی۔ جاپان کے لیے یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جاپانی قوم اب تک ذاتی برتری کے احساس پر کھڑی ہوئی تھی۔ اب اس کو حقیقت پسندی کے احساس پر کھڑا ہونا تھا۔ اب تک وہ بیرونی مخالف جذبات (Anti-forcign sentiments) میں جی رہی تھی اب اس کو خود احتسابی کے جذبات میں اپنے لیے زندگی کا راز در یافت کرنا تھا۔ اس وقت جاپان کی صورت حال یہ تھی کہ اس کی صنعتیں برباد ہو چکی تھیں ۔ جنگی مجرم جنرل میکا رتھر کو معاہدہ کے خلاف جاپان کے اوپر مسلط کر دیا گیا تھا۔ کوریا، برما، سنگاپور، تائیوان اور دوسرے بیرونی مقبوضات کے علاوہ خود اپنے ملک کے کئی علاقے اس نے کھو دیے تھے۔ مثلاً جزیرہ کرافوٹو، اوکی ناوا وغیرہ ۔ 1946ء میں "میکا رتھر کانسٹی ٹیوشن" جاپان میں نافذ کیا گیا جو بیرونی طاقت کی طرف سے ایک مفتوح قوم کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ یہ سب چیزیں بلاشبہ ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کے ہم معنی تھیں ۔ چنانچہ جاپان کے بہت سے لوگ اس کو برداشت نہ کر سکے اور اس غم میں انہوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ فوجی انتہا پسندوں نے اس بات کی کوشش کی کہ قوم کے نام شاہ جاپان کے ریڈیائی پیغام کو نشر نہ ہونے دیں، اور جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو متعد دقوم پرستوں اور فوجی افسروں نے بے عزتی کے احساس کے تحت خود کشی کر لی: There were a number of suicides among the military officers and nationalists who felt themselves dishonoured. (10/86) جاپان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے لیے نمبر 2 کی حیثیت کو قبول کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader