Urdu book · کتابِ زندگی

راز حیات

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ جاپانیوں نے اپنے ہاتھ سے ”جاپان نمبر 2“ کی کتاب لکھی۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دوسرے لوگ ان کے بارہ میں ایسی کتاب لکھیں جس کا نام ”جاپان نمبر ایک“ ہو۔ یہی موجودہ دنیا کا قانون ہے۔ یہاں جو لوگ ہار مان لیں وہی جیتے ہیں۔ یہاں جو لوگ پیچھے ہٹنے پر راضی ہو جائیں۔ وہی دوبارہ اگلی صف میں جگہ پاتے ہیں۔ اس راز کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے ”صلح حدیبیہ“ کی صورت میں دریافت کیا تھا، موجودہ زمانہ میں جاپانیوں نے اسی کو اپنے حالات کے لحاظ سے اپنی زندگی میں دہرایا ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے، یہاں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ یہی مقابلہ انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ تاریخ کی تمام ترقیاں اسی مقابلہ آرائی کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں۔ امریکہ کی قیادت کی کوشش کے ذریعہ انسان جوہری طاقت تک پہنچا۔ جاپان کے دوبارہ اٹھنے کی کوشش نے الیکٹرانک دور پیدا کر دیا، وغیرہ۔ اس دوڑ یا مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایک قوم دوسری قوم سے پچھڑ جاتی ہے۔ بار بار کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں پیچھے رہ جانے والا اگر شکایت اور احتجاج میں لگ جائے تو وہ صرف اپنا وقت ضائع کرے گا۔ اس کے لیے واحد راستہ صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ دوسرے اس سے آگے بڑھ گئے اور وہ دوسروں سے پیچھے رہ گیا۔ یہ اعتراف اس کی کوششوں کو صحیح رُخ پر لگا دے گا۔ وہ اس کو موقع دے گا کہ آگے بڑھنے والے سے بے فائدہ ٹکراؤ کیے بغیر وہ اپنی تعمیر ثانی کا کام شروع کر دے۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ آئے جب کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے۔ اپنے پیچھے ہونے کا احساس آدمی کو دوبارہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والا شخص اگر اپنے پیچھے ہونے کا اقرار نہ کرے تو وہ ہمیشہ پیچھے ہی پڑا رہے گا، دوبارہ آگے بڑھنا اس کے لیے مقدر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page