راز حیات
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
لیا۔ تا ہم اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسری حیثیت پر راضی ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ طاقتور فریق سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنے لیے تعمیر نو کا وقفہ حاصل کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جاپان نے یہ کیا کہ اس نے سیاسی اور معاشی اعتبار سے امریکہ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا اور اپنی تمام تو جہات سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں موڑ دیں۔ یہ عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ تیس سال میں تاریخ بدل گئی ۔ فوجی اعتبار سے زیر دست جاپان نے اقتصادی اعتبار سے بالادست جاپان کی حیثیت حاصل کرلی۔ جاپان نے الیکٹرانکس اور دوسرے شعبوں میں اتنی اعلیٰ درجہ کی مصنوعات تیار کیں کہ خود امریکہ کے لوگ اپنے ملک کی چیزیں چھوڑ کر جاپان کی چیزیں خریدنے لگے۔ کیوں کہ وہ کوالٹی میں امریکہ سے بہتر تھیں اور قیمت میں امریکہ سے کم۔ اس صورت حال نے امریکی مدبرین کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ امریکہ کے ایک سیاسی مدبر مسٹر پیٹی ولسن (Pete Wilson) نے کہا کہ جاپان کے الیکٹرانک سامان ٹوکیو کے سواہر ایک کو برباد کر رہے ہیں: The japanese semiconductor Godzilla is now destroying everything but Tokyo. دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان امریکہ کا مقروض ہو گیا تھا۔ اب خود امریکہ جاپان کا مقروض بننے لگا۔ 1986ء میں امریکہ کا جو سامان جاپان میں آیا ان کی قیمت 26 بلین ڈالر تھی۔ اس کے مقابلے میں جاپان کا سامان جو امریکہ گیا ان کی قیمت 85 بلین ڈالر ہے۔ اس طرح امریکہ اور جاپان کے درمیان تجارتی توازن ٹوٹ گیا۔ 1986ء میں امریکہ کے مقابلہ میں جاپان کا ٹریڈ سر پلس 85 بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گیا۔ امریکہ آج دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے اور جاپان دنیا کا سب سے بڑا ساہوکار ملک (ٹائم 13 اپریل، 27 اپریل 1987) ۔ اس صورت حال پر آج کل کثرت سے کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جاپان نمبرایک (JAPAN-Number One)۔ یہ کتاب اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بنی ہوئی ہے۔ 1945ء میں جاپان نے امریکہ کے مقابلہ میں نمبر 2 کی حیثیت منظور کر لی تھی ۔ 40 سال بعد خود امریکہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ جاپان دوبارہ نمبر ایک کا مقام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader