Urdu book · کتابِ زندگی

سارا خون

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

سراخون پروفیسر پال ڈیراک (1904-1982 Paul Dirac) نے 82 سال کی عمر میں فلوریڈا میں وفات پائی۔ وہ جدید دور میں نیوٹن اور آئ سٹائن کے بعد سب سے زیادہ ممتاز سائنس دان سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو نوبل انعام اور دوسرے بہت سے اعزازات حاصل ہوئے۔ پال ڈیراک کے نام کے ساتھ کوانٹم میکانیکل تھیوری منسوب ہے۔ یہ سائنسی نظریہ ایٹم کے انتہائی چھوٹے ذرات سے بحث کرتا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اینٹی میٹر کی پیشین گوئی کی جو بعد کو مزید تحقیقات سے ثابت ہوگیا۔ چنانچہ گارڈین (4 نومبر 1984ء) نے پال ڈیراک پر مضمون شائع کرتے ہوئے اس کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی ہے: Prophet of the Anti-Universe پال ڈیراک نے ایٹم میں پہلا اینٹی پارٹیکل دریافت کیا جس کو پازیٹران (Positron) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے نیوکلیئر فزکس میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ لوگ جب پال ڈیراک سے پوچھتے کہ آپ نے تحت ایٹم مادہ کی نوعیت کے بارے میں اپنا چونکا دینے والا نظریہ کیسے دریافت کیا تو وہ بتاتے کہ وہ اپنے مطالعہ کے کمرہ میں اس طرح فرش پر لیٹ جاتے تھے کہ ان کا پاؤں اوپر رہتا تا کہ خون ان کے دماغ کی طرف دوڑے: When people asked him how he got his startling ideas about the nature of sub-atomic matter, he would patiently explain that he did so lying on his study floor with his feet up so that the blood ran to his head. بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا فکری کام وہی شخص کر پاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر یکسو نہیں کرتے اسی لیے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ہر کام آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔ وہی شخص بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page