خطرہ نہیں
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
خطرہ نہیں ایک مفکر کا قول ہے ــــ واحد چیز جس سے ہمیں ڈرنا چاہیے وہ خود ڈر ہے : The only thing we have to fear is fear itsself. زندگی میں ایسے لمححات آتے ہیں جو بظاہر خطرہ والے ہوتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر آدمی ڈر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مگر زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خطرہ کو خطرہ نہ سمجھے بلکہ سادہ طور پر اس کو صرف ایک مسئلہ سمجھے۔ مسئلہ سمجھنے سے آدمی کا ذہن اس کا حل تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب مسئلہ کو خطرہ سمجھ لیا جائے تو اس سے ڈروالی نفسیات پیدا ہوتی ہے، آدمی مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ جو کچھ کر سکتا تھا، اس کو کرنا بھی اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ جو شخص زندگی کی جدوجہد کے میدان میں داخل ہو اس کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ وہ اس میدان میں اکیلا نہیں ہے۔ یہاں اس کی مانند دوسرے لوگ بھی ہیں جو اپنے حوصلوں کے مطابق زندگی کی جدوجہد میں مشغول ہیں۔ اس کے ساتھ فطرت کا نظام ہے جو وسیع تر پیمانہ پر قائم ہے۔ اس نظام میں سردی بھی ہے اور گرمی بھی۔ خشکی بھی ہے اور پانی بھی۔ میدان بھی ہے اور پہاڑ بھی۔ یہاں پھول بھی ہے اور کانٹا بھی۔ ان دوطرفہ اسباب سے لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے مختلف قسم کی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ اس کی گاڑی رکتی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ اس قسم کے واقعات ہر آدمی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور وہ بہر حال پیش آئیں گے خواہ ہم ان کو چاہیں یا نہ چاہیں۔ مگر ہمارے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں اگر مخالف انسان ہیں تو اسی کے ساتھ ہمارے موافق انسان بھی موجود ہیں۔ جہاں رکاوٹیں کھڑی ہوئی ہیں وہیں گنجائش کے دروازے بھی ہر طرف کھلے ہوئے ہیں۔ جو آدمی مخالفتوں یار کاوٹوں میں الجھ جائے وہ اس دنیا میں اپنا سفر پورا نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس جو شخص ایسا کرے کہ وہ مخالفت یار کاوٹ پیش آنے کی صورت میں اپنے ذہن کو تدبیر ڈھونڈنے کی طرف لگا دے، وہ لازماً اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ پالے گا۔ اس کو کوئی طاقت منزل پر پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader