جوش بغیر ہوش
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
جوش بغیر ہوش میکی ٹامسن (1928 ,Mickey Thompson) امریکہ میں پیدا ہوا۔ اس نے کار کی ریس میں عالمی شہرت حاصل کی ۔ حتیٰ کہ وہ شاہ رفتار (Speed King) کہا جانے لگا۔ مگر مارچ 1988 میں اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ بوقتِ وفات اس کی عمر 59 سال تھی۔ میکی ٹامسن بے حد جرات مند آدمی تھا۔ نومبر 1987ء میں اس نے اپنے دوستوں کو لاس اینجیلیز میں بتایا تھا کہ کچھ بے ہودہ لوگ اس کو ٹیلی فون پر مار ڈالنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس کے دوست ارنی الوراڈو(Ernie (Alvarado نے کہا کہ میکی نے مجھ کو بتایا تھا کہ وہ جانتا ہے کہ کون شخص اس کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ دوست نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کی اطلاع پولیس کو کی ہے۔ میکی نے جواب دیا: اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر میکی غلطی پر تھا۔ شروع مارچ 1988ء کی ایک صبح کو اپنی 41 سالہ بیوی ٹروڈی (Trudy) کے ساتھ وہ بریڈ بری (کیلی فورنیا) میں گھر سے اپنے آفس کے لیے جا رہا تھا کہ دو آدمی بائیسکل پر آئے اور اس پر بندوق سے حملہ کر دیا۔ ٹروڈی مایوسانہ طور پر کہتی رہی ــــ نہ مارو، نہ مارو (Don't shoot) مگر گولیوں کی بوچھاڑ نے چند منٹ کے اندر دونوں کا خاتمہ کر دیا۔ میکی نے 1960ء میں 400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کار چلا کر پہلے امریکی کا ٹائٹل حاصل کیا تھا۔ یہ سفر اس نے ایک خاص موٹر کار کے ذریعہ طے کیا تھا جس میں چار انجن لگے ہوئے تھے۔ ہفتہ وار ٹائم (28 مارچ 1988ء) نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خطرہ کی پروا نہ کرنا جس نے میکی ٹامسن کو تیز رفتاری کا بادشاہ بنایا خود ہی اس کے لیے موت کا ذریعہ بن گیا: The disregard for danger that marked Thompson's driving. career may have led to his death in his own front yard. (p. 12) بہادری اور بے خوفی بہت اچھی چیز ہے۔ مگر انسان بہر حال کمزور ہے، وہ مطلق بہادری یا لامحدود بے خوفی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس لیے بہادری اور بے خوفی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی محتاط ہو۔ وہ حکمت اور مصلحت کا لحاظ کرنا بھی جانے۔ غیر حکیمانہ چھلانگ بھی اتنا ہی غلط ہے، جتنا کہ بزدلانہ پسپائی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader