بلند پروازی
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
بلند پروازی جاپان ایئر لائنز کا ایک جہاز (بوئنگ 747) 12 اگست 1985 ء کو ٹوکیو سے اڑا۔ اسے ایک گھنٹہ میں اوسا کا پہنچنا تھا۔ مگر اڑان کے صرف 10 منٹ بعد پائلٹ نے محسوس کیا کہ اس نے جہاز پر اپنا کنٹرول کھودیا ہے۔ جہاز کو 24 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنا تھا۔ مگر وہ اترتے اترتے 9800 فٹ کی بلندی پر آ گیا اور بالآخر وہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ اس جہاز کے 520 مسافر مرگئے۔ ان مرنے والوں میں ہندوستان کے ایک انجینئر مسٹر کلیان مکر جی اور ان کی بیوی بھی تھے۔ مسٹر مکر جی کی عمر بوقت حادثہ 41 سال تھی۔ وہ ایک تجارتی مہم پر حال میں جاپان گئے تھے۔ جاپان سے انہوں نے اپنے لڑکے نر جن مکر جی (13 سال) کے نام خط لکھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ 12 اگست کو ایک تفریحی سفر (pleasure trip) پر ٹوکیو سے اوسا کا جارہے ہیں۔ (ہندوستان ٹائمس 14 اگست 1985) جہاز کو بلندی پر اڑانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ پہاڑوں یا اونچی عمارتوں سے نہ ٹکرائے۔ مذکورہ جہاز کے لیے ”24 ہزار فٹ“ کی بلندی ایک محفوظ بلندی تھی۔ مگر جب اس کے انجن میں خرابی آ گئی تو وہ اس محفوظ بلندی پر قائم نہ رہ سکا۔ وہ اترتے اترتے ”9800“ فٹ کی بلندی پر آ گیا۔ اب وہ محفوظ بلندی کی سطح پر نہ رہا۔ چنانچہ وہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ ہماری زندگی کا سفر بے شمار انسانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے فکر وخیال کے اعتبار سے نچلی سطح پر سفر کریں تو بار بار دوسروں سے ٹکراؤ ہوتا رہے گا۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی فکر وخیال کے اعتبار سے اپنے آپ کو اتنی بلندی پر پہنچادے کہ دوسروں سے ٹکراؤ کا امکان ہی اس کے لیے ختم ہو جائے۔ اعراض کا اسلامی اصول آدمی کو یہی بلندی عطا کرتا ہے۔ اعراض اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو بعض مفکرین نے زندگی کے مسئلہ کا برتر حل (superior solution) کہا ہے۔ برابر کی سطح پر سفر کرنے میں دوسروں سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے دانش مند آدمی اپنے سفر کی سطح کو بلند کر لیتا ہے۔ تاکہ دوسروں کے ساتھ اس کا ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ اسی برتر حکمت کو اختیار کرنے کا نام اعراض ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader