Urdu book · کتابِ زندگی

بے دانشی

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

بے دانشی ایک شخص کا قول ہے کہ بیشتر حالات میں آدمی کے لیے سیکنڈ بیسٹ (second best) ممکن ہوتا ہے، مگر وہ فرسٹ بیسٹ (First best) کو حاصل کرنے کی طرف دوڑتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی حرس میں ممکن کو بھی کھود دیتا ہے۔ ایک صاحب نے ایک عربی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ سے فراغت کے بعد وہ گاؤں کی مسجد میں معمولی تنخواہ پر امام ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی ملاقات ایک بڑے ادارہ کے ناظم صاحب سے ہوئی ۔ ناظم صاحب نے محسوس کیا کہ ان کے اندر صلاحیت ہے۔ چنانچہ انہوں نے " امام صاحب " کو اپنے یہاں بلا لیا۔ جلد ہی انہیں مزید ترقی ہوئی اور وہ ناظم صاحب کے اسٹنٹ مقرر ہو گئے۔ اب ادارہ کے وسیع احاطہ میں ان کور ہائش کے لیے ایک صاف ستھرامکان مل گیا۔ ایک جیپ ان کے استعمال میں رہنے لگی۔ معقول تنخواہ اور دوسری سہولتیں اس کے علاوہ تھیں ۔ امام صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اللہ کا شکر کر کے اس پر قانع رہتے۔ مگر اسٹنٹ کا عہدہ انہیں سیکنڈ بیسٹ نظر آیا۔ انہوں نے چاہا کہ میں فرسٹ بیسٹ حاصل کروں، یعنی خود ناظم صاحب کی سیٹ پر قبضہ کر لوں۔ چنانچہ انہوں نے ناظم کے خلاف مختلف قسم کے تخریبی منصوبے بنائے جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ خلاصہ یہ کہ جب ناظم صاحب کو ان کے تخریبی منصوبوں کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اثرات سے کام لے کر انہیں ادارہ سے نکلوا دیا۔ ان کا سامان باہر سڑک پر پھینک دیا گیا۔ جیپ چھین لی گئی۔ مجبور ہو کر انہیں شہر چھوڑنا پڑا۔ اب وہ دوبارہ گاؤں کی مسجد میں امام بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ مزید یہ کہ مذکورہ معاملہ کی وجہ سے ان کی جو بد نامی ہوئی ، اس کے بعد کوئی ادارہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز قناعت اور شکر گزاری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ قول میں ”سیکنڈ بیسٹ“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سیکنڈ بیسٹ پر قناعت کرنا اپنے کو پیچھے ڈالنا نہیں ہے۔ یہ دراصل قابل عمل سے آغاز کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو آدمی پہلے مرحلہ میں سیکنڈ بیسٹ پر راضی ہو جائے وہ بعد کے مرحلہ میں فرسٹ بیسٹ تک پہنچ جاتا ہے اور جو شخص اس طرح راضی نہ ہو، وہ سیکنڈ بیسٹ بھی کھود دیتا ہے اور فرسٹ بیسٹ بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page