کامیاب سفر
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیاب سفر 20 جنوری 1984ء کی صبح کو تھائی ائیر ویز کا جہاز (Boeing 747) کراچی سے پچھم کی طرف اڑا۔ یہ 29 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان کر رہا تھا۔ عین اسی وقت انڈین ائیرلائنز کا ایک جہاز بمبئی سے دہلی کی طرف جانے والا تھا۔ انڈین ائیرلائنز کے جہاز کو بھی 29 ہزار فٹ کی بلند پر اڑنا تھا۔ اس کی روانگی ہونے ہی والی تھی کہ عین وقت پر معلوم ہوا کہ تھائی ائیر ویز کا جہاز اسی سمت میں آ رہا ہے۔ اگر انڈین ائیرلائنز کا پائلٹ اپنے پروگرام کے مطابق اپنا جہاز اڑاتا تو منڈ سور (مدھ یہ پردیش ) کے اوپر دونوں کا ٹکراؤ ہو جاتا۔ تھائی ائیر ویز کا جہاز بھی اپنے تمام مسافروں کے ساتھ برباد ہو جاتا اور انڈین ائیرلائنز کا جہاز بھی (ٹائمز آف انڈیا 25 جنوری 1984ء) ائیر ٹرافک کنٹرول کو بالکل آخری وقت میں اس کی اطلاع مل سکی۔ اس نے فوراً انڈین ائیر لائنز کے کیپٹن سے کہا کہ تم یا تھائی ائیر ویز کے جہاز سے نیچے (25 ہزار فٹ) کی بلندی پر اڑان کرو یا اگر تم 29 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنا جہاز اڑانا چاہتے ہو تو پچیس منٹ دیر سے اڑان شروع کرو۔ انڈین ائیرلائنز کے کیپٹن نے دوسری تجویز کو پسند کیا اور پچیس منٹ کی دیر کے بعد اپنا جہاز اڑایا۔ اس طرح دو جہاز بین فضائی ٹکراؤ (Mid-air collision) سے بچ گئے۔ انڈین ائیرلائنز کا جہاز اپنے ابتدائی پروگرام کے مطابق منڈ سور کے اوپر سے صبح سات بجے گزرتا، مگر پروگرام کی تبدیلی کے بعد وہ منڈ سور کے اوپر سے صبح ساڑھے سات بجے گزرا۔ انڈین ائیرلائنز کے ایک افسر نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معجزہ تھا جس نے دونوں جہازوں کے مسافروں کو بچالیا۔ It was a miracle which saved passengers on both aircrafts. یہی وسیع تر اعتبار سے زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ اگر آپ ”29 ہزار فٹ“ کی بلندی پر اڑنا چاہتے ہیں تو اس کو نہ بھولیے کہ یہاں دوسرے لوگ بھی ہیں اور وہ بھی 29 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کے لیے دو ہی صورت ہے۔ یا تو دوسروں کا لحاظ کیے بغیر اپنی اڑان شروع کر دیں اور پھر تباہ ہو کر جھوٹی قربانی کی مثال قائم کریں۔ یا پھر یہ ”معجزہ“ دکھائیں کہ دوسرے سے نیچے اڑ کر آگے نکل جائیں یا ” آدھ گھنٹہ“ کی تاخیر سے اپنی اڑان شروع کریں۔ دونوں صورتوں میں آپ کامیاب رہیں گے اور حفاظت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader