ممکن اور ناممکن
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ممکن اور ناممکن سابق وزیرِ اعظم ہند لال بہادر شاستری جنوری 1966 ء میں انتقال کر گئے۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی نے مسز اندرا گاندھی کو وزیرِ اعظم بنایا۔ تاہم مرار جی ڈیسائی (1995-1896) سے ان کی کشمکش جاری رہی۔ کیوں کہ وہ خود وزیرِ اعظم بننا چاہتے تھے۔ 1967 ء کے الیکشن کے بعد مرار جی ڈیسائی کو نائب وزیرِ اعظم بنایا گیا۔ مگر مرار جی ڈیسائی نائب وزیرِ اعظم کے عہدہ کو اپنے لیے کمتر سمجھتے تھے۔ چنانچہ کش مکش بدستور جاری رہی۔ سابق وزیرِ اطلاعات مسٹر اندر کمار گجرال نے لکھا ہے کہ 1969 ء میں مسز اندرا گاندھی نے ان کے ذریعہ مرار جی ڈیسائی کو یہ پیش کش کی کہ ان کو مزید اعزاز دے کر اشٹر پتی (پرزیڈینٹ) کا عہدہ دے دیا جائے۔ مسٹر گجرال کا بیان ہے کہ جب انہوں نے یہ پیشکش مرار جی ڈیسائی کے سامنے رکھی تو بلا تاخیر ان کا جواب یہ تھا: Why not she herself? اندرا گاندھی خود کیوں نہیں (ٹائمس آف انڈیا 12 جولائی 1987 ء)۔ یعنی اندرا گاندھی خود پریذیڈنٹ بن جائیں اور مجھے وزیرِ اعظم بنا دیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مرار جی ڈیسائی کانگریس سے الگ ہو گئے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم بننے کے لیے سارے ملک کو الٹ پلٹ ڈالا۔ مارچ 1977 ء کے الیکشن میں جنتا پارٹی کی جیت کے بعد وہ مختصر مدت کے لیے وزیرِ اعظم بن بھی گئے۔ مگر جلد ہی بعد وہ سیاسی زوال سے دوچار ہوئے اور پھر کبھی ابھر نہ سکے۔ مرار جی ڈیسائی کی سیاسی ناکامی کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ ممکن کو چھوڑ کر ناممکن کی طرف دوڑے۔ اگر وہ اس راز کو جانتے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے جو آخری ممکن چیز ہے وہ صدارت ہے، نہ کہ وزارتِ عظمیٰ، تو یقیناً وہ ذلت اور ناکامی سے بچ جاتے۔ مگر ناممکن کے پیچھے دوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔ ناممکن کے پیچھے دوڑنا، آدمی کو ممکن سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ جب کہ ممکن پر قانع ہونے والا ممکن کو بھی پاتا ہے اور بالآخر ناممکن کو بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader