Urdu book · کتابِ زندگی

کتنا فرق

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

کتنا فرق یکم ستمبر 1983ء کو کوریا کی ائیر لائنز کا ایک مسافر جہاز (007 Flight) نیویارک سے سیول کے لیے روانہ ہوا۔ وہ کمچاٹکا(Kamchatka) کے اوپر اڑ رہا تھا کہ روسی فوج نے اس کو مار کر گرادیا۔ اس جہاز پر عملہ سمیت 269 مسافر تھے جو سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد روسی حکومت نے بیان دیا کہ اس جہاز کو مسافر جہاز سمجھ کر نہیں مارا گیا۔ روسی فوج نے اس کو امریکہ کا جاسوسی جہاز (RC-135 spy plane) سمجھا اور مدافعت میں اس پر وار کیا۔ تاہم امریکہ نے اس عذر کو قبول نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ مذکورہ جاسوسی جہاز اور مسافر جہاز (747 Boeing) میں اتنا زیادہ فرق تھا کہ راڈار سکرین کا مشاہدہ اس کو سمجھنے میں دھوکا نہیں کھا سکتا۔ 3 جولائی 1988ء کو اسی قسم کا ایک اور واقعہ برعکس صورت میں پیش آیا۔ ایران ائیر کا ایک مسافر بردار جہاز (300-Airbus A) تہران سے دبئی جارہا تھا۔ وہ خلیج فارس کے اوپر اڑ رہا تھا کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہاز ونسیز (USS Vincennes) نے اس کو مار کر گرادیا۔ عملہ سمیت اس کے 290 مسافر ہلاک ہوگئے۔ امریکہ کی طرف سے دوبارہ اس کی توجیہہ یہ کی گئی کہ امریکی بحریہ نے غلط فہمی میں ایسا کیا۔ اس نے اس جہاز کو مسافر بردار نہیں سمجھا بلکہ اس کو جنگی جہاز (14-F jet fighter) سمجھا اور بچاؤ کے طور پر اس کو اپنے میزائل کا نشانہ بنایا۔ امریکہ کے مخالفین کے لیے یہ توجیہہ قابل قبول نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ائیر بس کے مقابلہ میں مذکورہ جیٹ فائٹر بہت چھوٹا ہوتا ہے، جب کہ جیٹ فائٹر کی رفتار ائیر بس کے مقابلہ میں تقریبا 250 کلومیٹر زیادہ ہوتی ہے۔ امریکہ کے بحری جہاز کے راڈار سکرین پر یہ فرق واضح طور پر دکھائی دے رہا ہوگا۔ اس لیے دونوں میں اشتباہ پیدا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا، 5 جولائی 1988ء، صفحہ 12، ہندوستان ٹائمز، 5 جولائی 1988ء، صفحہ 13) آدمی دوسرے کی غلطی کو جاننے کے لیے انتہائی ہوشیار ہے، مگر اپنی غلطی کو جاننے کے لیے وہ انتہائی بے وقوف بن جاتا ہے۔ یہی دہرا معیار خرابیوں کی جڑ ہے۔ اگر لوگ ایک معیار والے ہو جائیں تو تمام خرابیاں اپنے آپ ختم ہوجائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page