Urdu book · کتابِ زندگی

مقصد کی اہمیت

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصد کی اہمیت ضلع حسن ( کرناٹک ) میں ایک گاؤں ہے، جس کا نام تھپر گھٹہ ہے۔ یہاں ایک شخص پچھ نائک نامی تھا جو ایک جھونپڑے میں رہتا تھا، اور چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ اس کے چار بچے تھے۔ اس نے طے کیا کہ وہ اپنی تین لڑکیوں کو دیوی چمنڈیشوری پر بھینٹ چڑھادے۔ 23 اپریل 1988ء کو وہ دیوی کی مورت لے کر آيا۔ اس کی پوجا کی اور اس کے بعد اپنی تین لڑکیوں (ڈیڑھ سال، تین سال، تیرہ سال) کو درانتی سے ذبح کر دیا۔ اس کے لڑکے راج کمار (8 سال) نے مزاحمت کرنی چاہی تو اس پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ اس مجنونانہ حرکت کے بعد وہ بھاگ کر باہر چلا گیا۔ چار دن بعد اس کی لاش آم کے ایک اکیلے درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ مذکورہ خبطی کی بیوی للی تھمنا (35 سال) کو چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 5 ہزار روپیہ دیا گیا ہے۔ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی نے اس کو ایک ہزار روپیہ دیا ہے۔ اب وہ اپنے لڑکے کے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس کے بچے کو تعلیم حاصل کرنا چاہیے ۔ وہ اس کے لیے تیار ہے کہ بیٹے کی تعلیم کے لیے اگر اس کو ساری زندگی کام کرنا پڑے تو وہ ساری زندگی اس کے لیے کام کرے گی۔ اس کو بیوہ کی حیثیت سے 50 روپیہ ماہوار پنشن ملنے کی امید ہے۔ تقریباً اتنی ہی ماہانہ رقم اس کے بیٹے کو معذوری کے وظیفہ کے طور پر ملے گی۔ راج کمار جس کے دائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کٹ چکی ہیں، اب اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ رہا ہے۔ (ٹائمز آف انڈیا 28 اپریل 1988ء) للی تھمنا کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ بھی خودکشی کرلے، یا اپنے بیٹے کو لے کر رونے اور ماتم کرنے میں مشغول ہو جائے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے سب کچھ بھلا کر مثبت عمل کا منصوبہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے معذور بیٹے کے مستقبل کی تعمیر کی صورت میں اس نے اپنے لیے ایک مقصد پالیا۔ با مقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہوتا، اس دنیا میں محروم وہ ہے جو مقصد سے محروم ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page