کتنا مشکل کتنا آسان
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
کتنا مشکل کتنا آسان ایک صاحب ملے۔ ان کے پاس یونیورسٹی کی ایک بڑی ڈگری ہے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ”مولانا صاحب، آپ انگریزی رسالہ نکالتے ہیں۔ مگر آپ کے رسالہ کی انگریزی غلط ہوتی ہے۔“ میں نے کہا کہ آپ زبان کی غلطی کی کوئی مثال دیجیے۔ ان کے ہاتھ میں اس وقت الرسالہ ماہ نومبر 1986ء تھا۔ اس شمارہ کے ٹائٹل کے آخری صفحہ پر ایک مضمون انگریزی زبان میں شائع ہوا ہے۔ (یہ مضمون الرسالہ اردو اور انگریزی دونوں میں موجود ہے) یہ انگریزی مضمون حسب ذیل ہے: To spread the word of God is the highest form of charity. It appeals to the mind, the heart, the soul. That being the earnest endeavour of this magazine, how noble-spirited it would be of you, dear readers, if you sent it on regularly to friends and relatives. Make a gift of it. Think of a whole year's subscription as being both a delightful present as well as a contribution to a worthy cause. مذکورہ بزرگ نے اس عبارت کی چوتھی سطر میں لفظ sent پر نشان لگاتے ہوئے کہا کہ دیکھیے یہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہاں if you send ہونا چاہیے، نہ کہ if you sent جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔“ مگر جو لوگ انگریزی زبان سے بخوبی واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اعتراض درست نہیں۔ میں نے جواب دیا کہ معاف کیجیے، آپ نے یہ بات محض جوش اعتراض میں فرمائی ہے، نہ کہ بر بنائے واقفیت آپ ایسا کہہ رہے ہیں۔ آپ نے اپنے اس اعتراض کی تحقیق کے لیے گرامر کا مطالعہ نہیں کیا، ورنہ آپ ہرگز ایسا نہ فرماتے۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پرنسپل کلاز میں چوں کہ لفظ would (سیکنڈ فارم) استعمال ہوا ہے، اس بنا پر سب آرڈینیٹ کلاز میں بھی sent (سیکنڈ فارم) استعمال کیا جائے گا۔ یہی انگریزی گرامر کا اصول ہے: The form 'sent' is gramatically necessitated by the use of the word 'would' in the principal clause of the sentence. The other possible alternative would be 'could send' but not 'send'. میرے اس جواب کے بعد مذکورہ بزرگ چپ ہو گئے۔ تا ہم انہوں نے زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ تم غلطی پر ہو کہنا کتنا زیادہ آسان ہے اور میں غلطی پر ہوں کہنا کتنا زیادہ مشکل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader