Urdu book · کتابِ زندگی

اعتراف

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراف سید مشتاق علی کرکٹ کے انتہائی مشہور کھلاڑی ہیں۔ مسٹر شردورمانے ان سے انٹرویو لیا جو ہندوستان ٹائمس (15 مئی 1987) میں شائع ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہماری کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم افراد نے وہ غیر معمولی مقام حاصل کیا ہے، جو سید مشتاق علی نے حاصل کیا۔ تقریبا بیس سال تک وہ کرکٹ کے ہیرو بنے رہے۔ ان کے متعلق سر کارڈوس (Sir Neville Cardus) نے کہا تھا کہ مشتاق گویا کہ ایک بازیگر ہے، جو کامیابی حاصل کرنے کے لیے ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اسی طرح کیتھ ملر (Keith Miller) نے کہا کہ وہ ہمارے وقت کے ناقابل یقین حد تک اچھے کھلاڑی ہیں۔ سید مشتاق علی کی شہرت 1930 ء میں شروع ہوئی جب کہ ان کی عمر صرف 16 سال تھی۔ وہ اگر چہ کم کھیلتے تھے۔ مگر جب کھیلتے تھے تو ان کا کھیل سب سے زیادہ ممتاز ہوتا تھا۔ 46-1945 ء میں کلکتہ میں آسٹریلیا کی ٹیم اور ہندوستان کی ٹیم کا مقابلہ تھا۔ سید مشتاق علی کو ہندوستان کی ٹیم سے خارج کر دیا گیا۔ اس پر کلکتہ میں زبردست مظاہرے ہوئے اور ہر طرف یہ نعرہ گونج اٹھا: No Mushtaq, No Test آخر کار منتظمین نے سید مشتاق علی کو ٹیم میں شامل کیا۔ اب سید مشتاق علی کی عمر 72 سال ہو چکی ہے۔ مسٹر شردورما سے اپنے حالات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بار انگلینڈ میں ہندوستانی اور انگریزی ٹیم کا مقابلہ تھا۔ انگریزی ٹیم کے کپتان ولی ہہمنڈ (Wally Hammond) تھے۔ سید مشتاق علی نے رن بنانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ وہ نوے سے آگے بڑھ گئے۔ ولی ہہمنڈ اگرچہ مخالف ٹیم کے کپتان تھے، وہ اپنے جذبہ اعتراف کو روک نہ سکے۔ انہوں نے تیزی سے آکر مشتاق علی کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ جے رہو، میرے بیٹے جے رہو، اپنا سو پورا کرو: Steady, my boy, steady, get your hundred first. مردہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت بے اعترافی ہے اور زندہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اعتراف۔ زندہ انسان کے سامنے ایک حقیقت آئے یا وہ ایک خوبی کا مشاہدہ کرے تو وہ اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا، خواہ یہ اعتراف اپنی ہار ماننے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page