کھونے کے بعد
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کھونے کے بعد بھی اے پی (لندن) کی فراہم کردہ ایک خبر حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے— مسٹر اسٹیٹلی جاکی ہنگری میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سیاہ پوش راہب، عیسائی عالم اور فرکس کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس سال تک آواز سے محرومی ان کے لیے ان کی سائنس اور مذہب سے متعلق تحریروں پر دولارکھ 20 ہزار ڈالر جیتنے کا ذریعہ بن گئی۔ 1953 ء میں میرے گلے پر سرجری کے ایک حادثہ نے مجھے وقت دیا کہ میں لکھوں اور میں سوچوں، اور ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے انتہائی مقبول کتابوں کے مصنف ایسے ہیں جو بالکل نہیں سوچتے، انہوں نے کہا۔ مسٹر جاکی جنہوں نے مذہب میں ترقی ٹیمپلٹن انعام حاصل کیا ہے، یقین رکھتے ہیں کہ عیسائیت نے وہ ذہنی فضا پیدا کی جس نے سائنس کو ترقی کا موقع دیا۔ وہ اس خیال کے سخت ناقد ہیں کہ سائنس اور خدا ایک دوسرے سے غیر متعلق چیزیں ہیں: Mr Stanley L. Jaki, a Hungarian-born Benedictine monk, theologian and physics professor, says losing his voice for ten years helped him win a $220,000 prize for his writings on science and faith." A surgical mishap on my throat in 1953 gave me time to write and to think, and that's not always the case. Many writers of best-sellers don't think at all,"the scholar said. Mr Jaki who won the Templeton prize for progress in religion, holds that Christianity created the intellectual climate which allowed science to flourish. He is a stern critic of the view that science and God are unrelated. (The Times of India, New Delhi, May 14, 1987). مسٹر جاکی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ غلط آپریشن کی وجہ سے ان کی بولنے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ مگر ان کے سوچنے اور پڑھنے کی صلاحیت بدستور باقی تھی۔ انہوں نے اس بچی ہوئی صلاحیت کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ دس سال کی خاموش محنت سے انہوں نے ایک ایسی کتاب لکھی جس کا انعام سوا دو لاکھ ڈالر تھا۔ حادثہ کے بعد جو لوگ کھوتی ہوئی چیز کا غم کریں وہ صرف اپنی بربادی میں اضافہ کرتے ہیں جو لوگ حادثہ پیش آنے کے بعد بچی ہوئی چیز پر اپنی ساری توجہ لگا دیں وہ از سر نو کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader