Urdu book · کتابِ زندگی

کم سمجھنا

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

کم سمجھنا زندگی نام ہے ناخوش گواریوں کو خوش گواری کے ساتھ قبول کرنے کا۔ تھیوڈور روزویلٹ (Theodore Roosevelt) نے اسی بات کو ان الفاظ میں کہا کہ زندگی کا سامنا کرنے کا سب سے زیادہ ناقص طریقہ یہ ہے کہ حقارت کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے: The poorest way to face life is to face it with a sneer. اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگ بھی یہاں زندگی کا موقع پائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے منصوبہ کے تحت ہر ایک کو اس کا سامانِ حیات دے رہا ہے۔ کسی کو ایک چیز، کسی کو دوسری چیز اور کسی کو تیسری چیز۔ ایسی حالت میں آدمی اگر دوسروں کو حقیر یا کم سمجھ لے تو وہ حقیقت پسندانہ نظر سے محروم ہو جائے گا۔ وہ نہ اپنے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکے گا اور نہ دوسروں کے بارے میں۔ تاریخ انسانی میں جو سب سے بڑا جرم کیا گیا ہے وہ عدم اعتراف ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں خدا کے نیک بندے حق کا پیغام لے کر اٹھے، انہوں نے لوگوں کو سچائی کی طرف بلایا۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ ان کے مخاطبین کی اکثریت نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے ان سچے انسانوں کو حقیر سمجھ لیا، صرف اس لیے کہ ان کے آس پاس انہیں دنیا کی رونقیں نظر نہ آئیں، وہ ان کو تخت عظمت پر بیٹھے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک چھوٹے آدمی کے سامنے کیوں اپنے آپ کو جھکائیں۔ یہی معاملہ قومی رویہ کا بھی ہے۔ اگر ہم ایک قوم کو حقیر سمجھ لیں تو اس کے بارے میں ہمارا پورا رویہ غلط ہو کر رہ جائے گا۔ ہم اس قوم کی اچھائیوں کو بھی برائی کے روپ میں دیکھنے لگیں گے، ہم اس قوم کی طاقت کا غلط اندازہ کریں گے اور اس سے ایسے مواقع پر غیر ضروری طور پر لڑ جائیں گے جہاں بہترین عقل مندی یہ تھی کہ اس سے اعراض کیا جائے۔ دوسروں کو کم سمجھنا با اعتبار نتیجہ خود اپنے آپ کو کم سمجھنا ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھنے کا آخری انجام صرف یہ ہے کہ آدمی خود دوسروں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page