Urdu book · منصوبہ بند عمل

حدیبیہ کا منصوبہ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

معاہدہ تھا۔ لیکن یہ معاہدۂ امن کس طرح واقع بنا۔ وہ اس وقت واقعہ بنا جب کہ پیغمبر اسلام نے فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لیا۔ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینے کی آخری حد یہ تھی کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو اس پر یہ الفاظ لکھے گئے: ھذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ۔ فریق ثانی کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو رسول نہیں مانتے، آپ لکھیے محمد بن عبد اللہ۔ پیغمبر اسلام نے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیا، اور حکم دیا کہ معاہدہ کے کاغذ پر لکھا جائے: امح یا علی واکتب: ھذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ ( مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد حالات میں انقلابی تبدیلی ہوئی۔ یہاں تک کہ دو سال کے اندر مکہ جنگ کے بغیر فتح ہو گیا۔ معاہدۂ حدیبیہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر تم فتح چاہتے ہو تو پہلے اپنی شکست کو تسلیم کرو، اگر تم آگے بڑھنا چاہتے ہو تو پہلے پیچھے ہٹنے پر راضی ہو جاؤ، اگر تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ کا ٹائٹل صفحۂ عالم پر لکھا جائے تو بوقت ضرورت تم اس کو کاغذ پر مٹانے کے لیے راضی ہو جاؤ۔ پریکٹیکل وزڈم کا ایک حکیمانہ اصول ہے، جس کو وقت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time strategy) کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ میں قیام امن کے لیے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینا گویا یہی تدبیر تھی۔ یہ تدبیر مؤثر ثابت ہوئی، اور اس کے بعد بہت کم مدت میں عرب میں ایک غیر خونی انقلاب ( bloodless

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page