Urdu book · منصوبہ بند عمل

متعلق اور غیر متعلق میں فرق کرنا

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

تحت وہ حاصل ہو گیا۔ اس لیے پریکٹیکل وزڈم کے اصول پر اس کو قبول کر لیا گیا۔ یہ بھی ری پلاننگ کا ایک کیس تھا۔ اسلام کے پہلے دور میں خلافت کا نظام قائم کیا گیا لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ خلافت کا نظام ورک (work) نہیں کر رہا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلی تاریخ کے نتیجے میں لوگوں کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ حاکم کے بعد حاکم کی اولاد کو حقِ حکومت (right to rule) حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت تک یہ رواج ختم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے پریکٹیکل وزڈم کا تقاضا تھا کہ خاندانی حکومت کے نظام کو اختیار کر لیا جائے ۔ تا کہ کم از کم سیاسی استحکام (political stability) کا مقصد حاصل ہو جائے۔ اس لیے عملی سبب (practical reason)، نہ کہ نظری سبب (theoretical reason) کے تحت خاندانی سیاست کا نظام اختیار کر لیا گیا۔ یہ ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ تاریخ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں دورِ اول میں لیا ہواری پلاننگ کا فیصلہ باعتبار حقیقت بالکل درست تھا۔ ری پلاننگ کے معاملے کا تعلق اصول (principle) سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریق کار (method) سے ہے۔ طریق کار کبھی مطلق (absolute) نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا تعین ہمیشہ عملی افادیت (pragmatism) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کی مشہور روایت ہے : ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، أحدهما أيسر من الآخر، إلا اختار أيسر هما ( صحيح مسلم، حدیث نمبر 2327 )۔ یہاں ایسر کا لفظی مطلب ہے آسان۔ یہاں آسان طریقہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page