منصوبہ بند عمل
Urdu book, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
اکیسویں صدی میں یہ امکان پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد یہ سب کچھ اب واقعہ بن چکا ہے۔ یہ دور امکانی طور پر ظہورِ اسلام کا دور ہے۔ یہ دور گلیو گلیلی (1642-1564) کی تحقیقات سے شروع ہوا، اور اب اسٹیفن ہاکنگ (2018-1942) کی تحقیقات کے ساتھ غالباً وہ اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دریافت کردہ حقائق کو لے کر خدا کے دین کو تبیین کامل کے درجے تک پہنچادیا جائے۔ اسی کے ساتھ کمیونی کیشن کے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے رسول اللہ کی پیشین گوئی کے مطابق، خالق کے پیغام کو زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں پہنچادیا جائے۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اسلام ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کوئی دور اس واقعہ سے خالی نہیں۔ لیکن اسلام کے ظہور کا ایک اور درجہ تھا، جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت :53) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حدیث میں ظہورِ اسلام کے اس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے اس اعلیٰ ظہور کے لیے اعلیٰ مواقع درکار تھے۔ ایک طرف معرفت رب کے دلائل اور دوسری طرف دعوت کے اعلیٰ مواقع۔ یہ دونوں چیزیں جدید سائنسی دور میں اپنی کامل صورت میں ظہور میں آ چکی ہیں۔ اب ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو ان مواقع کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader