دعوت کی ری پلاننگ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
ظہور سائنس تک، ظہورِ سائنس کے بعد اکیسویں صدی تک۔ جدید سائنس سے پہلے دعوت اسلام کا کام استدلال کے اعتبار سے معجزہ (miracle) کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ اس کو قرآن میں بینات (الحدید، 57:25) کہا گیا ہے۔ دوسرے دور میں دعوت کا کام استدلال کے اعتبار سے سائنسی شہادت (scientific evidence) کی بنیاد پر انجام پاتا ہے۔ یہ سائنسی شہادت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیات آفاق وانفس (فصلت، 41:53) کے الفاظ میں پیشگی طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ ماڈرن سائنس کوئی اجنبی چیز نہیں۔ یہ دراصل فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے حقائق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ فطرت میں یہ مخفی دلائل اسی لیے رکھ دیے گئے تھے کہ وقت آنے پر ان کو دریافت کر کے دعوت کے حق میں استدلالی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اب آخری طور پر وہ زمانہ آ گیا ہے، جب کہ اس استدلالی بنیاد کو دعوت حق کے لیے استعمال کر کے دعوت حق کا وہ اعلیٰ استدلالی کام انجام دیا جائے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی دلائل کی بنیاد پر دعوت کے اس کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ راقم الحروف نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا، اور درجنوں چھوٹی بڑی کتابیں اس موضوع پر لکھی۔ ان میں سے ایک مذہب اور جدید چیلنج ہے جو پہلی بار 1966 میں چھپی تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ اکثر بڑی بڑی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ مثلاً عربی میں الاسلام یتحدی (1970)، اور انگریزی میں گاڈ آرائزز (1988)،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader