دانش مندی کی ضرورت
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔ ری پلاننگ کے اصول کو پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا۔ ری پلاننگ ہمیشہ بدلے ہوئے حالات میں کی جاتی ہے۔ اور بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ فہم و بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے حالات کا بے لاگ جائزہ لے۔ وہ فطرت کے اٹل اصولوں کی معنویت کو دوبارہ دریافت کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگا کہ وہ فطرت کے نظام میں کوئی خلل ڈالے بغیر اپنے مقصد کی تکمیل کر سکے۔ اس اصول کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہے۔ ہجرت کے پانچویں سال جب کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کے لیڈر تمام عرب سے بارہ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ لڑائی کے بغیر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔ آپ کے ساتھیوں میں ایک سلمان فارسی تھے، جو ایران سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جب بادشاہ لوگ جنگ کو اوائڈ (avoid) کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔ اس طرح فریقین کے درمیان ایک بفر (buffer) قائم ہو جاتا ہے، اور دونوں کے درمیان جنگ کی نوبت نہیں آتی۔ پیغمبر اسلام نے اس کو پسند کیا، اور رات دن کی کوشش سے مدینہ کے ایک طرف جو کھلا ہوا تھا، لمبی خندق کھود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader