Urdu book · منصوبہ بند عمل

ویٹیکن ماڈل

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری دنیا میں اپنی مذہبی تنظیم (religious organization) قائم کریں۔ وہ ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت ساری دنیا میں منظم طور پر اپنے مذہب کا کام کر سکیں۔ یہ وہی حکمت تھی جس کو قرآن میں اِحْدَى الْحُسْنَيَيْن (9:52) کہا گیا ہے، یعنی دو بہتریں سے ایک (one of the two bests) کا انتخاب کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی محرومی کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محرومی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ زمانی حقائق سے بے خبری کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بار بار یہ موقع ملا کہ وہ ”ویٹیکن ماڈل“ کے مطابق اپنے لیے دوسرا بہتر (second best) حاصل کرلیں_ لیکن مسلمانوں کے رہنما اپنی غیر دانشمندی کی بنا پر اس موقع کو اوویل (avail) نہ کر سکے_ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب یہ واضح ہو گیا کہ عثمانی خلافت کا سیاسی ادارہ باقی نہیں رہ سکتا۔ تو مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ گفت و شنید کے ذریعہ وہ دوسرے بہتر (second best) پر راضی ہو جائیں_ یعنی خلافت کے نام سے ترکی کے کسی علاقہ، مثلاً قسطنطنیہ کے ایک محدود رقبہ کو حاصل کر لیں، اور وہاں ویٹیکن جیسا ایک ادارہ بنا کر خلیفہ کے ٹائٹل کو بدستور باقی رکھیں_ یہ مسلم رہنماؤں کے لیے اپنے مسئلے کی ری پلاننگ کا ایک موقع تھا_ مگر اس وقت کے مسلم رہنما اس معاملے میں حقیقت شناسی کا ثبوت نہ دے سکے_ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت کا ٹائٹل ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اسی طرح 1952 میں جب مصر کے شاہ فاروق کی حکومت ختم ہوئی، اور مصر میں فوجی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page