اسپین کا تجربہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
دیتی ہے۔ اس نئے دور کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ اسپین کے ساحل پر عرب رولر عبد الرحمن الداخل کا اسٹیچو دوبارہ نصب کیا گیا ہے، جو تلوار لیے ہوئے بظاہر فاتح کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ یہ اسٹیچو 1984 میں تیار کیا گیا تھا : اسپین میں یہ انقلاب کیسے آیا۔ اصل یہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں سیاسی حکمرانی کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں سیاسی حکمرانی کے ساتھ کوئی مثبت تصور موجود نہیں ہوتا تھا۔ مگر بیسویں صدی میں صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ اب جدید حالات کے تحت دنیا میں ایک نئی صنعت وجود میں آئی، جس کو ٹورسٹ انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ ٹورسٹ انڈسٹری ملکوں کے لیے اقتصادیات کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اسپین میں مسلم عہد کی تاریخی یادگاریں بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان کو دیکھنے کے لیے ساری دنیا کے سیاح وہاں آنے لگے۔ اس کے بعد اسپین کی حکومت کو معلوم ہوا کہ اس کے ملک میں اقتصادیات کا ایک بہت بڑا ذریعہ موجود ہے، اور وہ ہے مسلم عہد حکومت کی تاریخی عمارتیں ۔ اسپین کی حکومت نے ان تمام مقامات کی جدید کاری (renovation) کا کام بڑے پیمانے پر کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین دنیا کی سیاحت انڈسٹری کے نقشے میں نمبر دو ملک بن گیا، اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ حتی کہ ایک پس ماندہ ملک ایک خوشحال ملک بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader