Urdu book · منصوبہ بند عمل

منصوبہ بند عمل

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں عمومی طور پر منفی سوچ (negative thinking) آگئی۔ وہ اپنی سابقہ پولیکل عظمت کو واپس لانے کی کوششیں کرنے لگے۔ مگر یہ ایک غیر حقیقی منصوبہ تھا، جو آخری حد تک نا کام رہا۔ مسلمانوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں جینا مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور حال کے اوپر دوبارہ اپنے قومی عمل کی ری پلاننگ کریں۔ قدیم زمانے میں مسلم ایمپائر جن حالات کے تحت قائم ہوئے تھے، وہ حالات اب ختم ہو چکے ہیں۔ اب نہ مسلمانوں کے لیے اور نہ کسی اور قوم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ قدیم طرز کا پولٹکل ایمپائر دنیا میں قائم کریں۔ اس معاملے میں مسلمان اگر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، تو وہ نئے حالات کے امکان کو دریافت کر لیں گے۔ اس کے بعد ان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی کھوئى ہوئى حیثیت کو دوبارہ نئے عنوان سے حاصل کر لیں۔ کسی قوم کے لیے عروج وزوال کا واقعہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ برطانیہ نے اپنے زوال کے واقعہ کو سبق کے معنی میں لیا، اس بنا پر ان کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ یہ وقت ان کے لیے ری پلاننگ کا ہے۔ مسلمان عملاً اس راز سے بے خبر ہے، اس لیے زوال کے بعد اپنی قومی ترقی کی ری پلاننگ کے لیے وہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔ یہی سبب ہے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی ناکامی کا۔ جرمنی کی مثال جرمنی، اڈولف ہٹلر کی قیادت میں دوسری عالمی جنگ کا سب سے بڑا پارٹنر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page