Urdu book · منصوبہ بند عمل

برطانیہ کی مثال

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

فبیبن سوسائٹی کے ایک ممبرلارڈ اٹلی (Clement Richard Attlee 1883-1967)ونسٹن چرچل کے بعد برطانیہ کے پرائم منسٹر بنے۔لارڈ اٹلی نے بے لاگ طور پر صورت حال کا جائزہ لیا۔انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انڈیا اور دیگر ممالک کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا جائے۔اسی کے مطابق انڈیا 1947 میں برطانیہ کے سیاسی اقتدار سے آزاد ہوا۔ برٹش ایمپائر برطانیہ کے لیے ایک قومی عظمت کا معاملہ تھا۔برطانیہ کے لیے لوگ اپنی اس قومی عظمت پر فخر کرتے تھے۔مگر جب حالات بدل گئے تو برطانیہ کے لوگوں نے یوٹرن (u-turn)لیا۔انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں ماضی کی عظمت سے باہر نکلنا ہے، اور حالات کے مطابق اپنے قومی تعمیر کی ری پلاننگ کرنا ہے۔ چنانچہ لارڈ اٹلی کی لیڈرشپ میں انھوں نے ایسا ہی کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برطانیہ کے لوگ اپنی قومی ترقی کو نئی بنیاد پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی قسم کی سیاسی صورت حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں دنیا کے بڑے رقبے میں اپنا سیاسی ایمپائر قائم کر لیا۔پھر مسلم ملت میں زوال کا دور آیا۔رفتہ رفتہ ان کا یہ حال ہوا کہ ان کی سیاسی عظمت (political glory) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کا سبب تمام تر داخلی تھا، مگر مسلمانوں نے اس کو عملی طور پر قبول (accept)نہیں کیا۔وہ اس کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈالتے رہے۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page