Urdu book · منصوبہ بند عمل

جاپان کی مثال

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کے بعد جاپان کے مدبّروں نے پورے معاملے پر ازسر نو غور کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جنگ میں اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود، اور جان و مال کی قربانیاں دینے کے باوجود انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے بعد ان کے اندرونی سوچ پیدا ہوئی، انھوں نے دریافت کیا کہ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی صرف امن کی طاقت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ تشدد کا طریقہ بربادی تو لاسکتا ہے، لیکن وہ کوئی ترقی لانے والا نہیں۔ اس کے بعد اس وقت کے جاپانی حکمراں ہیر و ہیٹو(Hirohito) نے ریڈیو پر اپنی قوم کو خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جاپان کی دوبارہ ترقی کے لیے ہمیں ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جاپان کو ایک ترقی یافتہ نیشن بناسکیں: The time has come to bear the unbearable دوایٹم بموں کی تباہی کی بنا پر جاپانی قوم اس وقت انتقام میں مبتلا تھی۔ لیکن جاپان کے کچھ دانشور اٹھے۔ انھوں نے یہ کہہ کر جاپانی قوم کو ٹھنڈا کیا کہ امریکا نے اگر 1945 میں ہمارے دو شہر، ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا ہے تو اس سے پہلے 1941 میں ہم خودکش بمباری کے ذریعہ امریکا کے بحری مرکز پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اس حادثے کو بھلاؤ، اور جاپان کی نئی تعمیر کرو۔ اس کے بعد جاپان نے اپنی قومی تعمیر کی ری پلاننگ کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے فوجی میدان کو چھوڑ دیا، اور پچیس سال تک صرف سائنسی تعلیم اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page