جاپان کی مثال
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
صنعت پر زور دیا جاتا رہا۔ اس نئی پلاننگ کی تفصیلات کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نئی پلاننگ کا نتیجہ تھا کہ جاپان شکست کے کھنڈر سے نکل کر دوبارہ ایک فاتح ملک بن گیا۔ جاپان کے لیڈروں نے جس طرح اپنے ملک کی ری پلاننگ کی۔ اس میں مسلم رہنماؤں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ مسلم علاقوں میں بھی کسی نہ کسی طور پر اسی قسم کے ناموافق حالات موجود ہیں۔ مسلم ممالک کے لیے بھی یہی امکان ہے کہ وہ ری پلاننگ کے اصول کو اختیار کر کے دوبارہ اعلیٰ ترقی حاصل کرے۔ مثال کے طور پر فلسطین کے معاملے میں جب بالفور کا فیصلہ ( Balfour Declaration) سامنے آیا تو اس وقت مسلم رہنماؤں کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ بالفور ڈیکلیریشن کے تحت فلسطین کے آدھے حصے کو یہود کو دے دیا گیا ہے، تو ہم کو چاہیے کہ ہم اس کو قبول کریں۔ کیوں کہ اس سے پہلے ہم صدیوں تک پورے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کیے ہوئے تھے۔ اب اگر یہود کو موقع مل رہا ہے تو یہ قانون فطرت (آل عمران، 3:140) کے تحت ہورہا ہے، اس میں ناانصافی کی کوئی بات نہیں۔ مسلم رہنماؤں نے اگر اس قسم کا فیصلہ کیا ہوتا تو یقیناً آج فلسطین کی تاریخ مختلف ہوتی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کی قدیم تاریخ میں بھی نمونے موجود ہیں، اور سیکولر قوموں کی تاریخ میں بھی ۔ انسانی تاریخ ہر قسم کے نمونے سے بھری ہوئی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ بے آمیز ذہن کے ساتھ کیا جائے۔ غیر متاثر ذہن کے ساتھ پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader